اِعجاز المسیح — Page 78
اعجاز المسيح ۷۸ اردو ترجمہ إلى الريبة۔ فإن المنعم الذي انعام کرنے والی ہستی جو لوگوں پر بغیر کسی حق کے يُحسن إلى الناس من غير حق طرح طرح کے احسان کرے، اُس ہستی کی ہر وہ بأنواع النعمة۔ يحمده كل من شخص حمد کرے گا جس پر انعام واکرام کیا جاتا ہے أنعم عليه۔ وهذا من خواص اور یہ انسانی خلقت کا خاصہ ہے۔ پھر جب اتمام النشأة الإنسانية۔ ثم إذا كمل نعمت کے مطابق حمد اپنے کمال کو پہنچ جائے تو الحمد بكمال الإنعام۔ جذب ذالك إلى الحب التام فيكون وه كامل محبت کی جاذب بن جاتی ہے۔ ایسا محسن المحسن محمدًا ومحبوباً فی اپنے محبوں کی نگاہ میں محمد اور محبوب ہو جاتا أعين المحبين فهذا مآل صفة ہے ۔ اور یہ صفت رحمانیت کا نتیجہ ہے ۔ پس الرحمان ففكر كالعاقلين۔ وقد عقلمندوں کی طرح غور وفکر کر۔ اس جگہ پر ہر ظهر من هذا المقام لكل من له صاحب عرفان پر واضح ہو گیا ہے کہ رحمـــن عرفان۔ أن الرحمن محمد وأن محمدا رحمان۔ ولا شك أن مالهما واحد۔ وقد جهل الحق محمد ہے اور محمد رحمن ہے۔ بلا شبہ دونوں (محمد اور رحمن) کا نتیجہ ایک ہی ہے۔ پس اُس نے حق کو شناخت نہ کیا جس نے من هو جاحد۔ وأما حقيقة صفة الرحيمية۔ وما أُخفى فيها من انکار کیا۔ اور جہاں تک صفت رحیمیت کی ١٠٣ الكيفية الروحانية۔ فهى إفاضة حقيقت اور اس میں پنہاں روحانی کیفیت کا تعلق إنعام و خير على عمل من أهل ہے تو وہ اہلِ مسجد کے اعمال پر انعام و برکت کا مسجد لا من أهل دَيْرٍ فیض ہے نہ کہ اہل دیر پر اور مخلص کام کرنے و تکمیل عمل العاملين والوں کے اعمال کی تکمیل اور تلافی کرنے والوں المخلصين۔ وجبر نقصانهم كالمتلافين والمعينين اور معاونوں اور مددگاروں کی طرح اُن کی کوتاہیوں کا تدارک مقصود ہے اور بلا شبہ یہ افاضہ والناصرين۔ ولا شك أن هذه الإفاضة في حكم الحمد من الله رحیم خدا کے تعریف کرنے کے حکم میں ہے کیونکہ الرحيم۔ فإنه لا ينزل هذه وه اپنی یہ رحمت کسی عمل کرنے والے پر صرف اُس