اِعجاز المسیح — Page 76
اعجاز المسيح ۷۶ اردو ترجمہ نفسه عليه ألف ألف صلوة و نے ان دونوں صفتوں کو آپ کی ذات میں جمع کر تحية۔ فلذالك ذكر تخصيصا دیا۔ لاکھوں درود اور سلام ہوں آپ پر ۔ اسی وجہ صفة المحبوبية والمحبية على سے اللہ نے اس سورۃ کے آغاز ہی میں رأس هذه السورة۔ ليكون إشارة محبوبيت اور محبیت کی صفات کا خاص طور پر ذکر فرمایا ہے تا کہ اس ارادے کی جانب اشارہ إلى هذه الإرادة۔ وسمى نبينا ہو جائے ۔ اور اس نے ہمارے نبی کا نام محمد محمدًا وأحمد كما سمى نفسه اور احمد رکھا جیسا کہ اس نے اپنا نام اس آیت میں رحمن اور رحیم رکھا ہے۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ ظلی طور پر سیدنا خیر البریہ محمد اے کے وجود کے علاوہ کوئی اور ان دو صفتوں کا جامع الرحمان والرحيم في هذه الآية۔ ١٠٠ فهذه إشارة الى أنه لا جامع لهما على الطريقة الظلية إلا وجود سيدنا خير البرية۔ وقد عرفت أن نہیں ۔ اور تو جان چکا ہے کہ یہ دو صفتیں اللہ تعالیٰ کی هاتين الصفتين أكبر الصفات من تمام صفات میں سے سب سے بڑی صفات صفات الحضرة الأحدية۔ بل ہیں بلکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کے جمیع صفاتی ناموں هما لب اللباب وحقيقة الحقائق کا لب لباب اور حقائق کی اصلیت ہیں۔ اور یہ ہر لجميع أسمائه الصفاتية۔ وهما اُس شخص کے کمال کی کسوٹی ہیں جو طالب کمال ہے معيار كمال كل من استكمل اور اخلاق الہیہ کو اپنانا چاہتا ہے اور ان دونوں وتخلق بالأخلاق الإلهية۔ وما صفات سے کامل حصہ صرف اور صرف ہمارے نبی أعطى نصيبا كاملا منهما إلا نبينا ﷺ کو دیا گیا ہے جو سلسلہ نبوت کے خاتم خاتم سلسلة النبوة۔ فإنه أعطى ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو ان دونوں صفات اسمين كمثل هاتين الصفتين۔ کی مانند رب کو نین کے فضل۔ کے فضل سے دو نام عطا کئے اولهما محمد و الثانی احمد من گئے ہیں ۔ ان میں سے پہلا نام محمد ہے فضل رب الكونين۔ اما محمد فقد اور دوسرا احمد۔ جہاں تک محمّد کا تعلق ہے صلى الله