اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 61 of 163

اِعجاز المسیح — Page 61

اعجاز المسيح الباب الثاني ٦١ اردو ترجمہ دوسرا باب في شرح ما يقال عند تلاوة الفاتحة فاتحہ اور قرآن عظیم کی تلاوت سے قبل ادا کئے و القرآن العظيم اعنى أَعُوذُ بِاللَّهِ جانے والے کلمات یعنی اَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ الشَّيْطَنِ الرَّحِیم کی تشریح اعلم يا طالب العرفان۔ أنه من أحلّ الطالب معرفت ! یہ جان لے کہ جو شخص فاتحہ اور نفسه محل تلاوة الفاتحة والفرقان فرقان حمید کی تلاوت کرنے لگے تو اس پر لازم ہے فعليه أن يستعيذ من الشيطان۔ كما کہ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے کہ أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ جاء في القرآن۔ فإن الشيطان قد الشَّيْطَنِ الرَّحِیمِ پڑھ کر شیطان سے پناہ مانگے ۔ يدخل حمى الحضرة كالسارقين كيونكہ شيطان رب العزت کے مرغزار میں اور اس ويدخل الحرم العاصم کے حرم میں جو اس کے معصوم بندوں کے لئے ﴿۸۰﴾ للمعصومين۔ فأراد الله أن ينجى مخصوص ہے چوروں کی طرح داخل ہوتا ہے۔اس عباده من صول الخناس ۔ عند لئے اللہ نے ارادہ فرمایا کہ وہ سورۃ فاتحہ اور رب قراءة الفاتحة وكلام رب الناس کا کلام پڑھتے وقت شیطان کے حملے سے الناس۔ ويدفعه بحربة منه ويضع اپنے بندوں کو نجات دلائے اور اپنے حربہ سے اس الفاس في الرأس۔ ويُخلّص الغافلين من النعاس۔ فعلم كلمة منه لطرد الشيطان المدحور إلى يوم النشور ۔ و كان سرّ هذا کو دور ہٹائے اور اس کے سر پر کلہاڑا چلائے اور غافلوں کو خواب غفلت سے نجات دلائے ۔ سواس نے مردود شیطان کو روز قیامت تک مار بھگانے کے لئے اپنی جناب سے ایک کلمہ (تعوّذ) سکھایا۔ الأمر المستور۔ أن الشيطان قد اس امر نہاں کا راز یہ ہے کہ شیطان زمانوں سے عادى الإنسان من الدهور۔ انسان کا دشمن ہے اور وہ مخفی طریق سے اسے تباہ وكان يُريد إهلاكه من طريق الاخفاء والدمور۔ وكان أحبّ اور ہلاک کرنا چاہتا ہے۔ انسان کو ہلاک کرنا اُس کا الأشياء إليه تدمير الإنسان۔ سب سے محبوب مشغلہ ہے ۔ اس غرض سے اس