اِعجاز المسیح — Page 59
اعجاز المسيح ۵۹ اردو ترجمہ ومع ذالك حصر هذا التعداد اس تعداد میں حصر کرنا مبدء سے معاد تک کے إشارة إلى سنوات المبدء والمعاد۔ زمانے کی طرف ایک اشارہ ہے یعنی اس أعنى أن آياتها السبع إيماء إلى کی سات آیات دنیا کی عمر کی طرف اشارہ کرتی عمر الدنيا فإنها سبعة آلاف۔ ہیں پس وہ سات ہزار سال ہے ۔ ان آیات میں ولكل منها دلالة على كيفية سے ہر ایک آیت گزشتہ ہزار سالوں کی کیفیت پر ايلاف والألف الأخير في دلالت کرتی ہے اور یہ آخری ہزار سال تو گمراہی الضلال كبير۔ وكان هذا المقام يقتضى هذا الإعلام كما كفلت میں بہت بڑھا ہوا ہے ۔ یہ مقام اس مدت کے الذكر إلى معاد من التناف۔ بیان کرنے کا تقاضا کرتا ہے جیسا کہ سورۃ فاتحہ ۷۷ وحاصل الكلام أن الفاتحة والنقصان۔ كتحصين الثغور بامرار الأمور۔ ومثلها كمثل آغاز سے انجام تک کے مضامین کی متکفل حصن حصين۔ ونور مبين۔ ہے۔ حاصل کلام یہ کہ فاتحہ ایک حصن حصین ومعلم ومعين۔ وإنها يحصن اور ٹورمین ہے ۔ معلم اور مددگار ہے ۔ یہ قرآن أحكام القرآن من الزيادة كے احکام کو ہر قسم کی کمی بیشی سے محفوظ رکھتی ہے جیسے اعلیٰ حسن انتظام سے سرحدوں کی حفاظت کی ناقة تحمل كل ما تحتاج إليه ۔ جاتی ہے۔ اس کی مثال اُس اونٹنی کی طرح ہے جو وتوصل إلى ديار الحب من ضرورت کی ہر چیز کو اپنی پشت پر لادے ہوئے ہے ركب عليه۔ وقد حمل عليها من اور اپنے سوار کو دیار حبیب تک پہنچاتی ہے۔ جس پر كل نوع الأزواد والنفقات ہر قسم کا زادو نفقہ اور پار چات ولباس لا دا گیا ہو۔ یا والثياب والكسوات ۔ أو مثلها اُس کی مثال اُس چھوٹے سے تالاب کی سی ہے كمثل بركة صغير فيها ماء جس میں بہت پانی ہے ۔ گویا کہ وہ مجمع بحار ہے یا غزير۔ كأنها مجمع بحار۔ أو مجرى قلهذم زخار۔ وإني أرى بحر ذخار کی گزرگاہ میں دیکھتا ہوں کہ اس سورۂ أن فوائد هذه السورة الكريمة کریمہ کے فوائد و محاسن بے حد و حساب ہیں ۔