اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 57 of 163

اِعجاز المسیح — Page 57

اعجاز المسيح ۵۷ اردو ترجمہ وضعفه بقوله پھر آیت إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينَ ] إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں بندے کی ذلت ، بے بسی اور اُس کے ضعف کا ومن الممكن أن يكون تسمية اظہار کیا ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ فطرت انسانی هذه السورة به نظرًا إلى ضرورات کی تمام ضرورتوں کے پیش نظر اس سورت کا نام الفطرة الإنسانية۔ وإشارة إلى أم الكتاب رکھا گیا ہو اور جذب الہی یا کسب کے ما تقتضى الطبائع بالكسب أو الجواذب الإلهية۔ فإن الإنسان يُحب لتكميل نفسه أن يحصل ذریعہ جو طبائع تقاضا کرتی ہیں ان کی طرف اشارہ تکمیل نفس کے لئے مقصود ہو۔ کیونکہ انسان اپنے لــه عـلـم ذات الـلـه وصـفـاتـه پسند کرتا ہے کہ اسے اللہ کی ذات، صفات اور وأفعاله۔ ويُحبّ أن يحصل له افعال کا علم حاصل ہوا اور وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ اُسے علم مرضاته بوسيلة أحكامه رضائے الہی کا علم اُس کے اُن احکام کے وسیلے التي تنكشف حقيقتها بأقواله سے حاصل ہو جن کی حقیقت اُس کے اقوال سے وكذالك تقتضى روحانيته أن منکشف ہوتی ہے ۔ اسی طرح اُس کی روحانیت تأخذ بيده العناية الربانية۔ تقاضا کرتی ہے کہ عنایت ربانی اس کی دستگیری ويــحــصــل بـإعانته صفاء الباطن کرے اور اُسی کی اعانت سے اُس کی باطنی صفائی والأنوار والمكاشفات الإلهية۔ اور انوار و مکاشفات الہی حاصل ہوں ۔ یہ سورہ کریمہ وهذه السورة الكريمة مشتملة انہی مطالب پر مشتمل ہے بلکہ یہ سورت اپنے حُسنِ على هذه المطالب۔ بل وقعت بیان اور قوتِ اظہار کی وجہ سے ان مطالب کی بحسن بيانها و قوة تبيانها طرف کھینچنے والی ہے ۔ اس سورۃ کا ایک نام سبع كالجالب۔ ومن أسماء هذه مثانی ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ یہ دو حصوں پر السورة "السبع المثاني"۔ وسبب التسمية أنها مثنى نصفها ثناء مشتمل ہے۔ اس کا نصف بندے کا اپنے پروردگار کی ثناء کرنا ہے اور دوسرا نصف عبد فانی کے لئے رب الرب للعبد الفاني۔ وقيل أنها كى عطا پر مشتمل ہے ۔ اور بیان کیا گیا ہے کہ اسے العبد للرب ونصفها عطاء الفاتحة : ٥ ハマ 07