اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 155 of 163

اِعجاز المسیح — Page 155

)ج( وَ رُسُلِلی کے خدا نے ہمیشہ کے لئے جب تک کہ دنیا کا انتہا ہو یہ حجت اُن پر پوری ج) کرنی تھی کہ باوجود یکہ علم اور لیاقت کے یہ حالت ہے کہ ایک شخص کے مقابل پر ہزاروں ان کے عالم و فاضل کہلانے والے دم نہیں مار سکتے پھر بھی کافر کہنے پر دلیر ہیں کیا لازم نہ تھا کہ پہلے علم میں کامل ہوتے پھر کافر کہتے جن لوگوں کے علم کا یہ حال ہے کہ ہزاروں مل کر بھی ایک شخص کا مقابلہ نہ کر سکے چارجز کی تفسیر نہ لکھ سکے ان کے بھروسہ پر ایک ایسے مامور من اللہ کی مخالفت اختیار کرنا جو نشان پر نشان دکھلا رہا ہے بڑے بد قسمتوں کا کام ہے بالآخر ایک اور ہزار شکر کا مقام ہے کہ اس موقعہ پر ایک پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی پوری ہوئی اور وہ یہ ہے کہ اس ستر دن کے عرصہ میں کچھ باعث امراض لاحقہ اور کچھ باعث اس کے کہ بوجہ بیماری بہت سے دن تفسیر لکھنے سے سخت معذوری رہی ان نمازوں کو جو جمع ہوسکتی ہیں جمع کرنا پڑا اور اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ پیشگوئی پوری ہوئی جو در منثور اور فتح باری اور تفسیر ابن کثیر وغیرہ کتب میں ہے کہ تُجْمَعُ لَهُ الصَّلوة یعنی مسیح موعود کے لئے نماز جمع کی جائے گی ۔ اب ہمارے مخالف علماء یہ بھی بتلاویں کہ کیا وہ اس بات کو مانتے ہیں یا نہیں کہ یہ پیشگوئی پوری ہو کر مسیح موعود کی وہ علامت بھی ظہور میں آگئی اور اگر نہیں مانتے تو کوئی نظیر پیش کریں کہ کسی نے مسیح موعود کا دعوی کر کے دو ماہ تک نمازیں جمع کی ہوں یا بغیر دعوی ہی نظیر پیش کرو۔ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى المشتهر مرزا غلام احمد قادیانی ۲۰ فروری ۱۹۰۱ یه