اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 144 of 163

اِعجاز المسیح — Page 144

ママ اردو ترجمہ أول الفرقان۔ ففكر في " لَمْ يَلِدْ فرقان (حمید) کے شروع میں فرمایا ہے۔ اس لئے تم 19 وَلَمْ يُولَد وفِي الْوَسْوَاسِ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ اور الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ الْخَنَّاسِ۔ وما هم إِلَّا النصارى فعذ من علمائهم برب الناس ۔ کے الفاظ پر غور کرو۔ اور یہ نصاری ہی ہیں ۔ پس وإن الله كما ختم الفاتحة على ان پادریوں سے رَبُّ النَّاس کی پناہ مانگو۔ جس الضالين۔ كذالك ختم القرآن طرح اللہ نے سورۃ فاتحہ کو ضالین پر ختم کیا ہے۔ على النصرانيين۔ وإن الضالين اسی طرح قرآن کریم کو نصاری پر ختم کیا۔ دراصل هم النصرانيون كما روى عن ضالین ہی نصاری ہیں ۔ جیسا کہ ہمارے نبينا في الدر المنثور۔ وفي فتح صلى الله نبی ﷺ سے دُرِّ منشور اور فتح الباری میں مروی البارى فلا تعرض عن القول الثابت المشهور۔ ومُسلّم ہے ۔ پس تو ثابت شدہ مشہور اور جمہور کے مسلّم الجمهور۔ الباب الثامن قول سے اعراض نہ کر۔ آٹھواں باب في تفسير الفاتحة بقول كلى سورة فاتحہ کی تفسیر کے بارے میں جامع قول اعلم أن الله تعالى افتتح كتابه جان لے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کا آغاز بالحمد لا بالشكر ولا بالثناء ۔ حمد سے کیا ہے شکر سے نہیں کیا۔ اور نہ ثناء سے۔ لأن الحمد أتم وأكمل منهما كيونكہ حمد کا لفظ دوسرے دو لفظوں سے زیادہ وأحاطهما بالاستيفاء ۔ ثم اتم اور اکمل ہے اور ان پر پورے طور پر محیط ہے۔ ۱۹۲ ذالك رد على عبدة المخلوقین پھر یہ مخلوق کے پرستاروں اور بتوں کے پجاریوں والأوثان ۔ فإنهم يحمدون کی تردید ہے۔ کیونکہ وہ اپنے معبودانِ باطلہ کی حمد طواغيتهم وينسبون إليها صفات کرتے ہیں اور اُن کی طرف خدائے رحمن کی الرحمن۔ وفي الحمد إشارة صفات منسوب کرتے ہیں۔ حمد میں ایک اور أخرى۔ وهي أن الله تبارك وتعالى اشارہ بھی ہے اور وہ یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا يقول أيها العباد اعرفوني بصفاتي۔ ہے : اے بندو ! مجھے میری صفات سے شناخت کرو