سنن ابن ماجہ (جلد اوّل)

Page 377 of 504

سنن ابن ماجہ (جلد اوّل) — Page 377

سنن ابن ماجه جلد اول 377 - كتاب الاذان والسنة فيها مَحْذُورَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُخَيْرِيز ( عبد الله بن مُحَیریز کو شام کی طرف روانہ کرنے وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرٍ أَبِي مَحْذُورَةَ بْنِ کے لئے تیاری کی تو میں (عبد اللہ بن مخيرين) مِغَيرِ حِينَ جَهَّزَهُ إِلَى الشَّامِ فَقُلْتُ لِأَبِي نے حضرت ابو محذورہ سے کہا اے میرے چا! میں مَحْذُورَةَ أَيْ عَمِّ إِنِّي خارج إِلَى الشَّامِ شام کی طرف روانہ ہورہا ہوں۔مجھ سے آپ کی خَارِجٌ وَإِنِّي أَسْأَلُ عَنْ تَأْدِينِكَ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَبَا اذان کے بارہ میں سوال کیا جائے گا۔انہوں مَحْذُورَةَ قَالَ خَرَجْتُ فِي نَفَر فَكُنَّا بِبَعْض نے مجھے بتایا کہ حضرت ابو محذورہ نے بیان کیا الطَّرِيقِ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ الله صَلَّى الله کہ میں کچھ لوگوں کے ساتھ نکلا اور ہم راستہ میں تھے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ عِنْدَ رَسُولِ الله صَلَّى که رسول للہ عے کے موذن نے رسول اللہ علی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْنَا صَوْتَ الْمُؤَذِّنِ کے پاس نماز کے لئے اذان دی ہم نے مؤذن کی وَنَحْنُ عَنْهُ مُتَنَكَّبُونَ فَصَرَحْنَا نَحْکیه نَهْزَأُ آواز سنی۔اس وقت ہم آپ سے اعراض کرنے بهِ فَسَمِعَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ والے تھے۔پس ہم چیخ چیخ کر اس کی نقل کرنے لگے اور ہم اس کا مذاق اُڑاتے تھے۔رسول اللہ علی وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا قَوْمًا فَأَقْعَدُونَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ أَيُّكُمُ الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ قَدِ ارْتَفَعَ نے سنا اور آپ نے ہمیں بلانے کے لئے چند آدمیوں کو بھیجا۔انہوں نے ہمیں آپ کے سامنے بٹھا دیا۔آپ نے دریافت فرمایا میں نے تم میں سے کس کی آواز کوسنا جو بلند ہوئی۔سب لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا اور انہوں نے سچ ہی کہا تھا۔آپ نے ان اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا مِمَّا يَأْمُرُنِي بِهِ فَقُمْتُ سب کو بھیج دیا اور مجھے روک لیا اور مجھ سے فرمایا بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کھڑے ہو جاؤ اور اذان دو ، پس میں کھڑا ہوا اُس فَأَلْقَى عَلَيَّ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وقت مجھے رسول اللہ ﷺ اور جس کا آپ مجھے حکم وَسَلَّمَ التَّأْذِينَ هُوَ بِنَفْسِهِ فَقَالَ قُلْ اللَّهُ دے رہے تھے اُس سے زیادہ ناپسند اور کوئی چیز نہیں أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ تھی۔میں آپ کے سامنے کھڑا ہوا اور رسول اللہ لا اللہ فَأَشَارَ إِلَيَّ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَصَدَقُوا فَأَرْسَلَ كَلَهُمْ وَحَبَسَنِي وَقَالَ لِي قُمْ فَأَذَنْ فَقُمْتُ وَ لَا شَيْءٍ أَكْرَهُ إِلَيَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى جید یعنی اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔