سنن ابن ماجہ (جلد اوّل)

Page 15 of 504

سنن ابن ماجہ (جلد اوّل) — Page 15

سنن ابن ماجه جلد اول 15 مقدمة المؤلف طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاس یاد کی جاتی تھی۔مگر جب تم ہر مشکل زمین اور آسمان يَقُولُ إِنَّمَا كُنَّا تَحْفَظُ الْحَدِيثَ وَالْحَدِيثُ زمین پر چڑھنے لگے تو ہائے افسوس۔يُحْفَظُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّا إِذَا رَكِبْتُمُ الصَّعْبَ وَالذُّلُولَ فَهَيْهَاتَ 28: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ :28 قرظه بن کعب کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب زَيْدٍ عَنْ مُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ قَرَظَةَ بْنِ نے ہمیں کوفہ کی طرف روانہ کیا اور ہماری مشایعت كَعْبٍ قَالَ بَعَثَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَی کی ، اور ہمارے ساتھ اس جگہ تک چل کر گئے جس الْكُوفَةِ وَشَيَّعَنَا فَمَشَى مَعَنَا إِلَى مَوْضِعِ کا نام ”صرار ہے۔پھر حضرت عمر نے فرمایا کیا تم يُقَالُ لَهُ صِرَارٌ فَقَالَ أَتَدْرُونَ لَمَ مَشَيْتُ جانتے ہو کہ میں تمہارے ساتھ کیوں چلا؟ راوی کہتے مَعَكُمْ قَالَ قُلْنَا لِحَقِّ صُحْبَةِ رَسُولِ اللهِ ہیں ہم نے کہا رسول اللہ ﷺ کی مصاحبت کا حق صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِحَقِّ الْأَنْصَارِ قَالَ اور انصار کے حق کی ادائیگی کی خاطر آپ ہمارے لَكِنِّي مَشَيْتُ مَعَكُمْ لِحَدِيثِ أَرَدْتُ أَنْ ساتھ چلے۔آپ نے فرمایا لیکن در حقیقت میں ایک أَحَدٌ لَكُمْ بِهِ فَأَرَدْتُ أَنْ تَحْفَظُوهُ لِمَمْشَايَ بات کے لئے جو میں نے ارادہ کیا ہے کہ تم سے بیان مَعَكُمْ إِنَّكُمْ تَقْدَمُونَ عَلَى قَوْمِ لِلْقُرْآنِ فِي کروں اور میں چاہتا ہوں کہ تم اس کو یاد رکھو ، صُدُورِهِمْ هَزِیزٌ كَهَزِيزِ الْمِرْجَلِ فَإِذَا تمہارے ساتھ میرے چلنے کی وجہ سے۔تم ایک ایسی رَأَوْكُمْ مَدُّوا إِلَيْكُمْ أَعْنَاقَهُمْ وَقَالُوا قوم کی طرف جارہے ہو جن کے سینوں میں قرآن کی أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ فَأَقِلُوا الرِّوَايَةَ عَنْ رَسُول آواز ایسی ہوگی جیسی ہنڈیا کے اہلنے کی آواز۔اور اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا شَرِيكُكُمْ جب وہ تم کو دیکھیں گے تو تمہاری طرف اپنی گردنیں اونچی کر کے دیکھیں گے، اور کہیں گے کہ محمد عے کے صحابہ! پس رسول اللہ ﷺ کی روایات کم بیان کرنا، اور میں تمہارے ساتھ شریک ہوں۔