سنن ابن ماجہ (جلد اوّل)

Page 290 of 504

سنن ابن ماجہ (جلد اوّل) — Page 290

سنن ابن ماجه جلد اول 290 87: بَاب مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ بِغَيْرِ تَوْقِيتِ باب مدت کی تعین کے بغیر مسح کے بارہ میں جو آیا ہے کتاب الطهاره وسننها 557- حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى وَعَمْرُو بْنُ :557 حضرت ابی بن عمارہ سے روایت ہے۔سَوَّادِ الْمِصْرِيَّانِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ( یہ وہ صحابی ہیں کہ ) رسول اللہ ﷺ نے اُن کے گھر وَهْبٍ أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ میں دونوں قبلوں (بیت المقدس اور خانہ کعبہ ) کی حْمَنِ بْنِ رَزِينِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ طرف رُخ کر کے نماز ادا کی۔انہوں نے أَبِي زِيَادٍ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ قَطَنِ عَنْ عِبَادَةَ بْنِ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ کیا میں لسَيْ عَنْ أَبِيِّ بْنِ عِمَارَةَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ موزوں پر مسح کروں؟ آپ نے فرمایا : ہاں۔انہوں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّى فِي بَيْتِهِ ( حضرت أبي بن عمارہ ) نے پوچھا ایک دن ؟ کہا الْقِبْلَتَيْنِ كِلْتَيْهِمَا أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللهِ دودن؟ کہا تین دن؟ یہاں تک کہ سات تک پہنچ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْسَحُ عَلَى الْخَفِّيْنِ گئے۔آپ نے انہیں فرمایا جب تک تم مناسب سمجھو۔قَالَ نَعَمْ قَالَ يَوْمًا قَالَ وَيَوْمَيْنِ قَالَ وَثَلَاثًا حَتَّى بَلَغَ سَبْعًا قَالَ لَهُ وَمَا بَدَا لَكَ 558 : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ 558 عقبہ بن عامر جہنی سے روایت ہے کہ وہ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ مصر سے حضرت عمر بن خطاب کے پاس آئے۔عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ حضرت عمرؓ نے پوچھا، کتنی مدت سے تم نے موزے عَبْدِ اللَّهِ الْبَلَوِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ نہیں اُتارے ؟ انہوں نے کہا جمعہ سے جمعہ تک۔اللَّحْمِيُّ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ مِصْرَ فَقَالَ مُنذُ كَمْ لَمْ تَنْزِعْ حُفَّيْكَ قَالَ مِنَ الْجُمُعَة إلَى الْجُمُعَةِ قَالَ أَصَبْتَ السُّنَّةَ آپ ( حضرت عمر ) نے فرمایا تم نے سنت کو پالیا۔557 تخريج : ابو داؤد كتاب الطهارة باب التوقيت في المسح 158 558 تخريج ابوداؤد کتاب الطهارة باب التوقيت في المسح 157