سنن ابن ماجہ (جلد اوّل)

Page 273 of 504

سنن ابن ماجہ (جلد اوّل) — Page 273

سنن ابن ماجه جلد اول 273 کتاب الطهاره وسننها حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيْلِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ لڑکی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے۔عَليَّ أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابويمان مصری نے بیان کیا کہ میں نے حضرت امام شافعی في بَوْلِ الرَّضِيعِ يُنْضَحُ بَوْلُ الْغُلَامِ وَيُعْسَلُ سے بی اے کی اس حدیث کے بارہ میں پوچھا کہ يَوْلُ الْجَارِيَةِ قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ ۚ لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑ کا جائے اور لڑکی کے حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى بْن مَعْقِل حَدَّثَنَا أَبُو پیشاب کو دھویا جائے حالانکہ دونوں (پیشاب ) پانی الْيَمَانِ الْمصْرِيُّ قَالَ سَأَلْتُ الشَّافِعِيُّ عَنْ حديث النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَشُ مِنْ بَوْلِ الْغُلَامِ وَيُعْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْجَارِيَةِ وَالْمَاءَانِ جَمِيعًا وَاحِدٌ قَالَ لِأَنْ بَوْلَ الْغُلَامِ مِنَ الْمَاءِ وَالطِّينِ وَبَوْلَ الْجَارِيَةِ مِنَ اللَّحْمِ ہی ہیں۔انہوں نے کہا وجہ یہ ہے کہ لڑکے کا پیشاب پانی اور مٹی سے ہے اور لڑکی کا پیشاب گوشت اور خون سے ہے۔پھر مجھے کہا سمجھے؟ فهمت کہایا کہا لَقِنت۔میں نے کہا نہیں۔انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ نے جب آدم کو پیدا کیا تو اس کی چھوٹی پہلی سے توا وَالدَّم ثُمَّ قَالَ لِي فَهِمْتَ أَوْ قَالَ لَقِنْتَ قَالَ پیدا کی گئیں۔پس لڑکے کا پیشاب پانی اور مٹی سے 2 قُلْتُ لَا قَالَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمَّا خَلَقَ آدَمَ خُلِقَتْ حَوَّاءُ مِنْ ضِلْعِهِ الْقَصِيرِ فَصَارَ بَولُ ہوا اور لڑکی کا پیشاب گوشت اور خون سے ہوا۔وہ کہتے الْغُلَامِ مِنَ الْمَاءِ وَالطِّينِ وَصَارَ بَوْلُ ہیں کہ انہوں نے مجھے کہا (اب) سمجھے؟ میں نے کہا جی الْجَارِيَةِ مِنَ اللَّحْمِ وَالدَّمِ قَالَ قَالَ لِي ہاں۔انہوں نے مجھے کہا اللہ تجھے اس سے فائدہ فَهِمْتَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ لِي نَفَعَكَ اللَّهُ بِهِ 526 : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَمُجَاهِدُ بْنُ :526 حضرت ابو سحر نے بتایا کہ میں نبی ﷺ کا مُوسَى وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ قَالُوا خادم تھا۔آپ کے پاس حسن یا حسین کو لایا گیا۔حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا انہوں نے آپ کے سینے پر پیشاب کر دیا۔انہوں بخاری اور مسلم میں بولُ الْغُلامِ" کے لفظ ہیں بُولُ الْجَارِيَةِ “ کے الفاظ نہیں۔2 مد نظر رہے کہ یہ حدیث کا حصہ نہیں بلکہ ایک ذوقی استنباط ہے۔526 اطراف : ابن ماجه كتاب الطهارة وسنتها باب ما جاء في بول الصبي الذي لم يطعم 522، 523، 524، 527،525 تخريج: بخارى كتاب الوضوء باب بول الصبيان 222 223 كتاب العقيقة باب تسمية المولود غداة يولد لمن لم يعق عنه وتحنيكه 5468 كتاب الادب باب وضع الصبي في الحجر 6002 كتاب الدعوات باب الدعاء للصبيان بالبركة ومسح رؤسهم 6355 كتاب الطب باب السعوط بالقسط الهندي والبحرى 5693 مسلم كتاب الطهارة باب حكم بول الطفل الرضيع 422، 423 424 ، 425 نسائى كتاب الطهارة باب بول الصبى الذى لم يأكل الطعام 302 303 باب بول الجارية 304 ابوداؤد كتاب الطهارة باب بول الصبي يصيب التوب 374 375 376 377 ، 379