سنن ابن ماجہ (جلد اوّل)

Page 270 of 504

سنن ابن ماجہ (جلد اوّل) — Page 270

سنن ابن ماجه جلد اول 270 كتاب الطهاره وسننها حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِم حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ وَأَبُو سَلَمَةَ وَابْنُ عَائِشَةَ الْقُرَشِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ 76 : بَاب الْحِيَاضِ حوضوں کے بارہ میں 519: حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَب الْمَدَنِيُّ حَدَّثَنَا :519 حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبيه عن نبي ﷺ سے ان تالابوں کے بارہ میں اور ان سے عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعيد الْخُدْرِي أَن وضو کرنے کے بارہ میں پوچھا گیا جو مکہ اور مدینہ کے النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَن درمیان ہیں جہاں درندے، کہتے اور گدھے پانی پینے الْحَيَاضِ الَّتِي بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ تَرِدُهَا کے لئے آتے ہیں۔آپ نے فرمایا جو یہ ( جانور ) السَّبَاعُ وَالْكِتَابَ وَالْعُمُرُ وَعَنِ الطَّهَارَةِ اپنے پیٹ میں ڈال لیں وہ ان کا ہے اور جو بیچ رہا وہ مِنْهَا فَقَالَ لَهَا مَا حَمَلَتْ فِي بُطُونِهَا وَلَنَا مَا ہمارے لئے ہے اور پاک ہے۔غَبَرَ طَهُورٌ 520 : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَنَانٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ :520 حضرت جابر بن عبد اللہ نے بیان کیا کہ ہم بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا شَرِيكَ عَنْ طَرِيفِ بْنِ ایک تالاب پر پہنچے اور اُس میں گدھے کی لاش تھی۔شهَابٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ وہ کہتے ہیں ہم اُس ( پانی کے استعمال ) سے رک گئے جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ التَهَيْنَا إِلَى غَدِيرٍ یہاں تک کہ ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ پہنچے۔فَإِذَا فِيهِ خِيفَةً حِمَارٍ قَالَ فَكَفَفْنَا عَنْهُ حَتَّى آپ نے فرمایا پانی کوکوئی چیز ناپاک نہیں کرتی تو ہم انْتَهَى إِلَيْنَا رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے پیا اور جانوروں کو پلایا اور ساتھ بھی لے لیا میں وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ ، فَاسْتَقَيْنَا وَأَرْوَيْنَا وَحَمَلْنَا یہ روایات اس اصولی راہنمائی کی روشنی میں پڑھنی چاہئیں کہ ان اللهَ يُحِبُّ السَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ (البقره: 223) 519 تخريج ترمذی کتاب الطهارة باب ما جاء ان الماء لا ينجسه شيء 66 ابو داؤد کتاب الطهارة باب ما جاء في بشر بضاعة 66 ، 67