سنن ابن ماجہ (جلد اوّل)

Page 11 of 504

سنن ابن ماجہ (جلد اوّل) — Page 11

مقدمة المؤلف سنن ابن ماجه جلد اول 11 وَتَحَدِّثُنِي عَنْ رَأَيكَ لَئِنْ أَخْرَجَنِي اللهُ لا سامنے رسول اللہ علیہ کی حدیث بیان کر رہا ہوں ﷺ أُسَاكِنَكَ بِأَرْضِ لَكَ عَلَيَّ فِيهَا إِمْرَةٌ فَلَمَّا اور تم مجھے اپنی رائے بتا رہے ہو۔اگر اللہ نے مجھے قَفَلَ لَحِقَ بِالْمَدِينَةِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ یہاں سے نکال لیا تو میں اس زمین میں ہرگز الْحَطَّابِ مَا أَقْدَمَكَ يَا أَبَا الْوَلِيدِ فَقَصَّ سکونت اختیار نہ کروں گا جس میں آپ کی مجھ پر عَلَيْهِ الْقِصَّةَ وَمَا قَالَ مِنْ مُسَاكَنَتِهِ فَقَالَ امارت ہو۔جب وہ لوٹے تو مدینہ آگئے ، اُن سے ارْجِعْ يَا أَبَا الْوَلِيدِ إِلَى أَرْضِكَ فَقَبَحَ الله حضرت عمر بن خطاب نے پوچھا آپ کس وجہ سے أَرْضًا لَسْتَ فِيهَا وَأَمْثَالُكَ وَكَتَبَ إِلَى واپس آگئے اے ابو ولید ؟ تو انہوں نے سارا واقعہ مُعَاوِيَةَ لَا إِمْرَةً لَكَ عَلَيْهِ وَاحْمِلِ النَّاسَ سنایا، اور وہ بات بھی جو اپنی سکونت اختیار کرنے کے عَلَى مَا قَالَ فَإِنَّهُ هُوَ الْأَمْرُ بارے میں کی تھی ، اس پر حضرت عمر نے انہیں فرمایا اے ابو ولید! اپنی زمین کی طرف واپس چلے جائیں ورنہ اللہ اس زمین کو بدحال کر دے گا ، جس میں آپ اور آپ جیسے نہ ہوں اور حضرت عمر نے امیر معاویہ کو لکھا آپ کا حکم ان ( عبادہ ابو ولیڈ ) پر نہیں ہے اور جو کچھ انہوں نے کہا ہے لوگوں سے اس پر عمل درآمد کراؤ کیونکہ حکم یہی ہے۔19 : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْخَلَّاد الباهلي :19 حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ ابْنِ جب میں تم سے رسول اللہ ﷺ کی کوئی بات بیان عَجْلَانَ أَلْبَأَنَا عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ کروں تو تم لوگ رسول اللہ ﷺ کے متعلق وہ گمان اللَّه بن مَسْعُودٍ قَالَ إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ كرو جو سب سے زیادہ خوشگوار، سب سے زیادہ بْنِ رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَظُنُّوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي هُوَ أَهْنَاهُ وَأَهْدَاهُ وَأَلْقَاهُ موجب ہدایت اور سب سے زیادہ تقومی پر :19 : اطراف : ابن ماجه كتاب مقدمة المؤلف باب تعظیم حدیث رسول الله له والتغليظ على من عارضه 20 مشتمل ہو