سنن ابن ماجہ (جلد اوّل) — Page 8
مقدمة المؤلف سنن ابن ماجه جلد اول الزبير عند 8 رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کے بارہ میں حضرت زبیر کے خلاف جھگڑا لے گیا، وَسَلَّمَ فِي شَرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا جن سے وہ کھجور کے درختوں کو پانی دیا کرتے تھے۔النَّخْلَ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ سَبِّح الْمَاءَ يَمُرُّ انصاری نے کہا کہ پانی چھوڑ دو ،وہ بہتا جائے فَأَبَى عَلَيْهِ فَاحْتَصَمَا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّی مگر انہوں نے اس کی بات نہ مانی تو وہ دونوں اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى رسول الله ﷺ کے پاس اپنا تنازعہ لائے۔اس پر اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلِ رسول الله ﷺ نے فرمایاز بیٹا تم اپنے درختوں کو) الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ سیراب کر لو، پھر پانی اپنے ہمسایہ کے لئے چھوڑ دو۔يَا رَسُولَ الله أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ فَتَلَوَّنَ وہ انصاری غصہ میں آگیا اور اس نے کہا یا رسول اللہ ! وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ یہ آپ کا پھو پھی زاد جو ہوا! اس پر رسول اللہ نے کا قَالَ يَا زُبَيْرُ اسْقِ ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى چیره متغیر ہو گیا اور آپ نے فرمایا اے زبیر پانی لگاؤ ، يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ قَالَ فَقَالَ الزُّبَيْرُ وَاللهِ پھر پانی روکے رکھو، یہاں تک کہ وہ منڈیروں تک پہنچ إِنِّي لَأَحْسِبُ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ فَلَا جائے۔راوی نے کہا حضرت زبیر کہتے تھے کہ اللہ کی وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا میں سمجھتا ہوں کہ یہ آیت اسی کے بارہ میں نازل شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ ہوئى فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا * (ترجمہ) نہیں ! تیرے رب کی قسم ! وہ کبھی ایمان نہیں لا سکتے جب تک وہ تجھے ان امور میں منصف نہ بنا لیں جن میں ان کے درمیان جھگڑا ہوا ہے۔پھر تو جو بھی فیصلہ کرے اس کے متعلق وہ اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور کامل فرمانبرداری اختیار کریں۔النساء : 66