سنن ابن ماجہ (جلد اوّل) — Page 166
سنن ابن ماجه جلد اول 166 کتاب الطهاره وسننها 303: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيَّ الْجَهْضَمِيُّ :303 حضرت انس بن مالک سے روایت ہے حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ که بی اے جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے اپنی يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ انگوٹھی اتار دیتے۔أنس بن مَالِكِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَخَلَ الْحَلَاءَ وَضَعَ خَاتَمَهُ 12: بَابِ : كَرَاهِيَةُ الْبَوْلِ فِي الْمُغْتَسَلِ باب: نہانے کی جگہ میں پیشاب کرنے کی ناپسندیدگی 304: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا عَبْدُ 304 حضرت عبد اللہ بن مغفل نے بیان کیا الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَشْعَثُ بْنِ عَبْدِ الله که رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی ہرگز عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُعَفَّل قَالَ اپنے نہانے کی جگہ پر پیشاب نہ کرے کیونکہ عموماً قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا وسوسے اُسی سے ہوتے ہیں۔ابو عبد اللہ بن ماجہ نے يَيُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي مُسْتَحَمهُ فَإِنْ عَامَّةَ کہا کہ میں نے محمد بن یزید کو کہتے ہوئے سنا اور انہوں الْوَسْوَاسِ مِنْهُ قَالَ أَبُو عَبْد الله بن مَاجَةَ نے علی بن محمد بن طنافسی کو کہتے ہوئے سنا کہ یہ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَزِيدَ يَقُولُ سَمِعْتُ عَلِيَّ صرف گڑھے کی بات ہے ، آج تو نہیں۔( آج کل ) بنَ مُحَمَّدِ الطَّنَافِسِيُّ يَقُولُ إِنَّمَا هَذَا فِي لوگوں کے غسل خانے چاک چونہ، صاروج تارکول کے ہیں۔اگر کوئی پیشاب کرے اور پانی بہادے تو الْحَفِيرَة فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلَا فَمُغْتَسَلَاتُهُمُ الْجِصُّ وَالصَّارُوجُ وَالْقِيرُ فَإِذَا بَالَ فَأَرْسَلَ عَلَيْهِ الْمَاءَ لَا بَأْسَ بِهِ اس میں کوئی حرج نہیں۔303: تخريج ترمذى كتاب اللباس ما جاء في لبس الخاتم فى اليمين 1746 نسائي كتاب الزينة باب نزع الحاتم عند دخول الخلاء 5213 ابوداؤد كتاب الطهارة باب الخاتم يكون فيه ذكر الله تعالى 19 304 : تخریج : ترمذی كتاب الطهارة باب ما جاء في كراهية البول فى المغتسل 21 نسائى كتاب الطهارة باب كراهية البول فى المستحم 36 ابوداؤد كتاب الطهارة باب فى البول في المستحم 27، 28 صاروج مٹی ملے ہوئے چونہ کو کہا جاتا ہے۔(المنجد اردو)