سنن ابن ماجہ (جلد اوّل) — Page 134
سنن ابن ماجه جلد اول 134 مقدمة المؤلف عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى پیچھے چھوڑی ہو مصحف جس کا اس نے (کسی کو) اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِمَّا يَلْحَقُ الْمُؤْمِنَ مِنْ وارث بنایا ہو یا کوئی مسجد تعمیر کروائی ہو یا کوئی گھر جو عَمَلَه وَحَسَنَاتِه بَعْدَ مَوْتَه عِلْمًا عَلَّمَهُ اس نے مسافروں کے لئے بنایا ہو یا کوئی نہر جاری کی وَنَشَرَهُ وَوَلَدًا صَالِحًا تَرَكَهُ وَمُصْحَفًا ہو، یا ایسا صدقہ جو اُس نے اپنے مال میں سے اپنی وَرَّلَهُ أَوْ مَسْجِدًا بَنَاهُ أَوْ بَيْتًا لِابْنِ السَّبيل صحت اور اپنی زندگی میں نکالا ہو، وہ اس کی موت کے بَنَاهُ أَوْ نَهْرًا أَجْرَاهُ أَوْ صَدَقَةً أَخْرَجَهَا مِنْ بعد اسے ملتا رہے گا۔مَالِهِ فِي صِحَتِهِ وَحَيَاتِهِ يَلْحَقُهُ مِنْ بَعْدِ مَوْتِهِ 243 : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْن كَاسِب 243 حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ الْمَدَنِيُّ حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ فِي ﷺ نے فرمایا سب سے افضل صدقہ یہ ہے کہ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ طَلْحَةَ ایک مسلمان شخص علم سیکھے اور پھر وہ اسے اپنے مسلمان عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنْ بھائی کو سکھائے۔النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ أَنْ يَتَعَلَّمَ الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ عِلْمًا ثُمَّ يُعَلِّمَهُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ 20: بَاب : مَنْ كَرِهَ أَنْ يُوطَأَ عَقِبَاهُ باب: جس نے نا پسند کیا کہ اس کے پیچھے پیچھے چلا جائے 1 244: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا :244 حضرت عبد اللہ بن عمر و اپنے والد سے سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ حَمَّادِ بْن سَلَمَةَ عَنْ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ علہ کو کبھی ٹیک لگا ثَابِتٍ عَنْ شُعَيْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو کر کھاتے ہوئے نہیں دیکھا گیا اور آپ کے پیچھے؟ عَنْ أَبِيهِ قَالَ مَا رُنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ آدمی نہیں چلتے تھے۔244 تخريج : ابوداؤد كتاب الاطعمة ما جاء في الاكل متكاً 3770 1: یہاں اُن لوگوں کا ذکر ہے جو تکبر کی بناء پر اپنے ساتھ لوگوں کو لے کر چلتے ہیں۔وو 2 گریکو رومن دنیا میں اونچا طبقہ reclining پوزیشن میں یعنی نیم دراز ہو کر کھانا کھاتا تھا اور اس کو بڑائی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔حضور ﷺ نے گویا اس پر نا پسندیدگی کا اظہار فرمایا ہے۔