حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 373
حیات احمد ۳۷۳ جلد اول حصہ سوم مضامین لکھنے شروع کئے۔تو <mark>ان</mark>ہوں نے اپنا تخلص مرزا موحد رکھ لیا۔چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عیسائیوں سے مباحثات سیالکوٹ میں وقعت اور عزت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔آپ کے طریق <mark>اس</mark>تدلال پر لوگ عش عش <mark>کرتے</mark> اور خود پادری صاحب<mark>ان</mark> بھی آپ کی علمی عظمت اور اخلاقی قوت کا احترام <mark>کرتے</mark> تھے۔مرزا موحد کو بھی آپ سے تعلقات بڑھ<mark>ان</mark>ے کا شوق ہوا۔وہ اکثر آپ کی خدمت میں آتے اور عیسائیوں کے اعتراضات کو پیش <mark>کرتے</mark>۔<mark>ان</mark> کے جوابات سنتے اور پھر اپنے رنگ میں اُن کو اخبارات کے ذریعہ شائع <mark>کرتے</mark>۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی فطرت میں یہ بات واقع <mark>ہوئی</mark> تھی کہ آپ عیسائی مذہب کی غلطیوں اور باطل عقائد کی تردید کے لئے <mark>ان</mark>تہائی جوش رکھتے تھے۔اور اگر کسی شخص کو <mark>اس</mark> میں ذرا بھی دلچسپی لیتے دیکھتے۔تو ہر طرح <mark>اس</mark> کے شوق اور دلچسپی بڑھ<mark>ان</mark>ے میں مدد دیتے اور <mark>اس</mark> کی حوصلہ افزائی <mark>کرتے</mark>۔آپ کے طرز عمل سے پایا جاتا ہے کہ آپ <mark>اس</mark> باطل عقیدہ کفارہ و تثلیث و الوہیت مسیح وغیرہ کے ابطال کے لئے کسی موقع کو ہاتھ سے نہ ج<mark>ان</mark>ے دیتے تھے۔مرزا موحد کے دل میں <mark>اس</mark> بات نے آپ کے لئے ایک خاص عظمت پیدا کردی تھی۔اور جب آپ سیالکوٹ سے قطع تعلق کر کے قادی<mark>ان</mark> آگئے تو بھی مرزا موحد صاحب آپ کی ملاقات کے لئے قادی<mark>ان</mark> تشریف لایا <mark>کرتے</mark> تھے۔اور آپ سے <mark>اس</mark>تفادہ کیا <mark>کرتے</mark>۔<mark>ان</mark> کے مضامین کا ایک بہت بڑا سلسلہ منشور محمدی میں طبع ہوا کرتا تھا۔خود <mark>ان</mark>ہوں نے بھی آخر میں سیالکوٹ سے وزیر ہند نام ایک اخبار نکال لیا تھا۔اگر چہ وہ زیادہ تر عام اخبار تھا۔تا ہم <mark>اس</mark> میں کبھی کبھی عیسائیوں کے متعلق مضامین بھی نکل جایا <mark>کرتے</mark> تھے۔قیام سیالکوٹ کے زم<mark>ان</mark>ہ کے متعلق آپ کے زہد و <mark>ان</mark>قاء کی شہادت سیالکوٹ کے قیام کا زم<mark>ان</mark>ہ آپ کے عنفو<mark>ان</mark> شباب کا زم<mark>ان</mark>ہ تھا۔آپ ایک وجیہ اور مرد<mark>ان</mark>ہ حسن کے نمونہ تھے مگر آپ کی زندگی نہایت بے لوث اور پاکیزہ زندگی تھی اور <mark>اس</mark> کے معترف وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے آپ کے دعوی کو کسی وجہ سے قبول نہیں کیا۔<mark>ان</mark> میں سے ایک مولوی سراج الدین احمد صاحب ب<mark>ان</mark>ی اخبار زمیندار ہیں۔مولوی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام