حیات شمس

by Other Authors

Page 86 of 748

حیات شمس — Page 86

۔خالد احمدیت <mark>حضرت</mark> مولا نا جلال الدین شمس 98 86 <mark>حضرت</mark> صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے <mark>حضرت</mark> مولانا جلال الدین شمس صاحب تحریر فرماتے ہیں : مرحوم و مغفور ایک ایسے وجود تھے جن کی ولادت سے بھی کئی ماہ قبل اللہ تعالیٰ نے آپ کی پیدائش کے بارہ <mark>حضرت</mark> مسیح موعود علیہ السلام کو بذریعہ الہام بشارت دی تھی اور ان کاموں کے پیش نظر جو اس مولود نے خدمت دین کیلئے کرنے تھے اس الہام میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو قمر الا<mark>نبی</mark>اء کے لقب سے نوازا۔یعنی توحید الہی اور دینِ الہی کے قیام کے لئے جو قلمی جہاد کرے گا اس کے پیش نظر وہ <mark>نبی</mark>وں کا چاند یعنی ان کا محبوب ہوگا جیسے ماں باپ پیارے رنگ میں اپنے بیٹے کو گھر کا چاند یا میرے چاند و غیرہ کہہ دیتے ہیں۔اس کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ ا<mark>نبی</mark>اء بمنزلہ سورج ہیں اور وہ ان کیلئے بمنزلہ چاند ہو گا یعنی ان کی پیروی سے اور ان کے نقشِ قدم پر چل کر اور ان سے اکتساب کو رکر کے لوگوں کو ٹو رانی کرنوں سے منور کرے گا۔چنانچہ مرحوم نے زمانہ شباب سے لے کر اپنی وفات تک قلمی جہاد کیا اور توحید الہی کی تائید میں اور آن<mark>حضرت</mark> صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے عاشق صادق <mark>حضرت</mark> مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت اور صداقت پر ایسا بلند پایہ اور شاندار قیمتی لٹریچر تیار کیا جو رہتی دنیا تک آپ کی یاد کو تازہ رکھے گا۔آپ نے سیرۃ خاتم ال<mark>نبی</mark>ن ایسے رنگ میں تحریر فرمائی کہ اپنوں اور بیگانوں نے خراج تحسین ادا کیا۔اسی طرح آپ کی دیگر تالیفات بھی حقائق و معارف سے لبریز اور دوسرے مذاہب پر اسلام کی شان و شوکت اور اس کے غلبہ اور تفوق کو ظاہر کرنے والی ہیں۔پھر اس الہام میں ایک نشانی یہ بیان کی گئی ہے کہ اس بچے کی جو قمر الا<mark>نبی</mark>اء ہوگا (اگر ا<mark>نبی</mark>اء سے مراد <mark>حضرت</mark> مسیح موعود علیہ السلام لئے جائیں کیونکہ آپ کو مختلف ا<mark>نبی</mark>اء کے نام دیئے گئے ہیں تو قمر الا<mark>نبی</mark>اء سے مراد آپ کا پیارا بیٹا ہوگا ) جن کی پیدائش کے بعد آپ کا کام آسان ہو جائے گا۔چنانچہ مرحوم و مغفور کی پیدائش 20 اپریل 1893ء کو ہوئی اور 24 اپریل 1893ء کو جنگ مقدس“ کی شرائط عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان طے پائیں اور مباحثہ 22 مئی سے لے کر 5 جون 1893 ء تک قرار پایا اور یہ <mark>حضرت</mark> مسیح موعود علیہ السلام کے لئے نہایت خوشکن امر تھا کیونکہ وہ مسلمان جو آپ کو کافر کہتے تھے وہی خود ان عیسائیوں کے مقابلہ میں آپ کو اسلام کی طرف سے بطور نمائندہ پیش کر رہے تھے۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَىٰ ذَالِک۔