حَمامة البشریٰ — Page 94
حمامة البشرى ۹۴ اردو ترجمه وقالوا استدراج أو رمل، وبهتوا الشدة اور کہنے لگے کہ یہ استدراج یا رمل ہے اور سخت تعجب إعجابهم، وجحدوا بها واستيقنتها کے سبب سے حیران ہو گئے ہیں اور ان کے دل تو یقین أنفسهم ظلما وعلوا، وكان لها من قلوبھم کر گئے ہیں لیکن ظلم اور تکبر سے انکار کر رہے ہیں اور مكان، وفي أعينهم قدر، ولكنهم كذبوا ان کے دلوں اور آنکھوں میں [ان کی] عظمت ہے حسدا من عند أنفسهم، فنعوذ بالله لیکن اپنے ذاتی اور بے وجہ حسد سے تکذیب کرتے من الحاسدين۔وتركوا الحق المبین ہیں۔ پس ہم اللہ کے پاس حاسدوں سے پناہ مانگتے واعتصموا بأقاويل ضعيفة ألا يتدبرون ہیں اور انہوں نے حق صریح سے انکار کیا ہے اور أن الله ما رأى واقعة من معظمات ضعیف باتوں سے تمسک کیا ہے۔ کیا نہیں سوچتے کہ الواقعات الآتية إلا ذكرها في القرآن جو کوئی بڑا واقعہ آنے والا ہے قرآن میں خدا تعالیٰ نے فكيف ترك واقعة نزول المسيح ضرور ہی اُس کا ذکر کیا ہے۔ پس کیوں نزول مسیح کے مع عظمة شأنها وعلوّ عجائبها ولم واقعہ کو ترک کر دیا باوجود یکہ وہ بہت عظیم الشان اور تركها إن كانت حقا وقد ذكر قصة عجائبات پر مشتمل تھا۔ پس اگر وہ حق ہوتا تو خدا اس کو ٢٩ يوسف وقال : نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ کیوں ترک کرتا حالانکہ اس نے یوسف کا قصہ بیان أَحْسَنَ الْقَصَصِ وذكر قصة کیا۔ اور فرمایا کہ ہم تیرے آگے اچھا قصہ بیان کرتے أصحاب الكهف قال : كَانُوا مِنْ ہیں ۔ اور اصحاب کہف کا قصہ بیان کیا اور فرمایا کہ وہ اعَجَبًا، ولكن لم يذكر شيئا ہمارے عجیب نشانوں ۔ اسے تھے۔“ لیکن مسیح کی نسبت اتِنَا من ذكر نزول عيسى من السماء من بجز وفات کے اس کے آسمان سے نازل ہونے کا غير ذكر الوفاة، فلو كان النزول حقا ہرگز ذکر تک نہیں کیا۔ پس اگر نزول حق ہوتا تو قرآن لما ترك القرآن هذه القصة، ولذكَرَها اس کو ہرگز ترک نہ کرتا بلکہ ضرور اس کو ایک بڑی لمبی سورۃ میں بیان کرتا اور اس کو سب قصوں سے احسن في سورة طويلة، ولجعلها أحسن من كل قصة، لأن عجائبها مخصوصة بها قرار دیتا کیونکہ اس کے عجائبات اس سے مخصوص ہیں ا يوسف : ۴ الكهف : ١٠