حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 319 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 319

حمامة البشرى ۳۱۹ اردو ترجمه اور اُن کے اعتراضات میں سے ایک یہ و من اعتراضاتهم ما قيل إن بعض أجل مشائخهم قال ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اُن کے بڑے مشائخ إني رأيت رسول اللہ صلی میں سے ایک نے یہ کہا ہے کہ میں نے رسول الله عليه وسلم في المنام وسألته الله عل کو خوار کو خواب میں دیکھا او دیکھا اور آپ سے اس عن هذا الرجل يعنى عن شخص (یعنی مولف کتاب ہذا) کے بارہ المؤلف أهو كاذب أم صادق؟ دریافت کیا کہ آیا وہ شخص کا ذب ہے یا صادق؟ صلى الله صلى الله بقية الحاشية - ألا ترى إلى سيدنا ونبينا بقیہ حاشیہ کیا تو ہمارے آقا، ہمارے نبی حضرت محمد محمد المصطفى صلعم كيف كانت عداوة مصطفیٰ ﷺ کی طرف نہیں دیکھتا کہ کس طرح ابو جہل اور اُس أبي جهل وأمثاله موجبة لإنارة صدقه وضياء جیسے لوگوں کی عداوت آپ کے صدق کی تنویر اور آپ کے نور إيمانه؟ ولو لم يكن أبو جهل وإخوانه من ایمان کی ضیاء پاشی کا موجب بنی۔ اگر ابو جہل اور اُس کے المعادين لبقى كثير من أنوار الصدق دوسرے معاند بھائی بند نہ ہوتے تو صدق محمدی کے بہت سے المحمدي في مكمن الاختفاء ، فإذا أراد انوار پردہ اخفاء میں رہ جاتے ۔ پس جب اللہ نے ارادہ فرمایا الله أن يُظهر صدق نبيه صلعم بين الناس کہ وہ اپنے نبی ﷺ کے صدق کو لوگوں میں ظاہر کرے تو اُس فجعل له الحاسدين المعاندين المعادين في نے اس زمین میں ابو جہل اور دوسرے شریروں کو آپ ﷺ کا الأرض كأبي جهل وشياطين ،آخرین حاسد ، معاند اور دشمن بنا دیا تو انہوں نے ہر طرح کے منصوبے فمكروا كل المكر وآذوا كل الإيذاء ، بنائے اور ہر طرح کی ایذا پہنچائی اور آسمان سے نازل ہونے وسعوا لإطفاء أنوار نزلت من السماء ، والے انوار کو بجھانے کی پوری کوشش کی ۔ لیکن وہ اس سے عاجز فعجزوا عن ذلك، وجاء الحق وزهق رہے۔ اور حق آگیا اور باطل بھاگ گیا۔ اور اللہ کا امر ظاہر الباطل، وظهر أمر الله ولو كانوا كارهين فجاز ہو گیا ۔ گو وہ اُسے نا پسند کرتے تھے۔ اس لئے یہ کہنا جائز ہے کہ أن يُقال إن أبا جهل وأمثاله كانوا سببا لظهور ابو جہل اور اس جیسے دوسرے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے صدق المصطفى وإيمانه الطيب وأنواره صدق ، آپ کے پاکیزہ ایمان اور آپ کے انوار عالیہ کو ظاہر العليا، فكذلك نقول إن دابة الأرض التي کرنے کا سبب بنے۔ پس اسی طرح ہم کہتے ہیں کہ دابۃ هي خادمة الشيطان ۔۔ أعنى التي تتكلم الارض جو شیطان کی خادمہ ہے۔ یعنی جو مقعد سے بات کرتی بالإست لا بالفم كالصالحين من نوع الإنسان ہے، نہ کہ صالحین کی طرح منہ سے، جو نوع انسان میں سے ہیں۔