حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 16 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 16

حمامة البشرى ۱۶ اردو ترجمه فسـألـنـي عـن الهـنـد وعن السفر تو [ اُس نے مجھ سے حالات سفر اور حالات ہند دریافت وأحواله، فأخبرته بالذي حصل کئے تو میں نے سب حالات و واقعات سنا دیئے اور وأخبرته عن دعواكم، وفهمته علی آپ کے دعوی کی بھی اُس کو خبر دی اور اچھی طرح أحسن ما يكون، ففرح بذلك، اُس کو سمجھایا ۔ چنانچہ وہ اس سے بہت خوش ہوا۔ اور وقلت له : هو رجل حلیم عظيم إذا میں نے اس کو یہ بھی کہا کہ وہ بڑے حلیم اور عظیم الشان رآه المؤمن يصدق به۔ فالكلمات شخص ہیں جب مومن ان کو دیکھتا ہے تو ضروران التي فهمتها إياه طفق يذكرها عند کی تصدیق کرتا ہے۔ جو باتیں اُس کو سمجھائی تھیں كل أحد من الناس، وقال لی: متى اُس نے ہر ایک کے پاس اُن کا ذکر شروع کر دیا يجيء إلى مكة؟ قلت له: إذا أراد اور مجھ سے یہ بھی پوچھا کہ کہ وہ مکہ میں کب آئیں الله سبحانه وتعالى يجيء إلى مكة گے۔ میں نے کہا کہ جب اللہ چاہے گا تو جلد شرفها الله تعالى عن قريب۔ والآن آجائیں گے۔ اور اب حضرت نے کچھ عربی کتابیں ألف كتبا عربية في إثبات دعواه، اپنے دعوی کے اثبات میں لکھی ہیں جو یہاں؟ چاہتے ہیں [ ان شاء الله تعالی ] ۔ یہ وہ باتیں يريد أن يرسلها إن شاء الله الله تعالى۔ بھیجنا هذا ما قلت لعلى طائع۔ ثم لما أن ہیں جو علی طائع سے ہوئیں۔ پھر جب میں نے یہ أردت إرسال هذا الكتاب، قلت له خط روانہ کرنا چاہا تو میں نے کہا کہ میں حضور کی خدمت أنا أريد أن أرسل لمولانا كتابا ۔ فقال لي: قل له في الكتاب يُعجل میں یہ خط بھیجنا چاہتا ہوں تو اس نے کہا کہ خط میں یہ بإرسال الكتب التي ألفها ويُعجل بھی عرض کر دو کہ اپنی مؤلفہ کتا میں جلد ارسال فرمائیں بالمجيء بنفسه إلى مكة۔ فقلت اور خود بھی مکہ میں تشریف لانے کی جلدی کریں۔ له : حتى يأذن الله۔ وقلت له لولا میں نے اُس کو کہا کہ یہ اللہ کے اذن پر موقوف ہے مخافة الفتن ما تركت الكتب التي اور اگر فتنہ کا خوف نہ ہوتا تو میں حضور کی کتابوں کو کبھی ألفها مولانا وجئت بها ۔ فقال لی: نہ چھوڑتا بلکہ ضرور ساتھ لاتا۔ اس نے کہا کہ کیوں لم خفت؟ لو جئت بها لكان خيرا ڈر گئے ۔ کاش تم اپنے ساتھ لاتے تو بہتر ہوتا۔