حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 204 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 204

حمامة البشرى ۲۰۴ اردو ترجمه فقال مَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ اور فرمایا کہ مَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلَّا إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَأُمُّهُ وَأُمُّهُ صِدِّيقَةً ، وقال وَجِيْهَا صِدِّيقَةٌ ، نیز فرمایا که وَجِيها فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ، فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ " اور اسی وكذا تم وعد وَجَاعِلُ الَّذِينَ طرح یہ وعدہ وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوْكَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا ، وقد فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا سے بھی پورا ہوا اور جس وقع كما وعد، وما نرى اليهود إلا طرح وعدہ تھا اسی طرح وقوع پذیر ہوا اور ہم یہودیوں کو مغلوب اور مقہور ہی دیکھتے ہیں ۔ مغلوبين و مقهورين۔ - بقية الحاشية صفحه ۱۹۴ ولا يتفكرون بقیه حاشیه صفحه ۱۹۴ - بہ صفحہ ۱۹۴ ۔ اور وہ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ أن قدرة الله تعالى لا يتعلق بما يُخالف اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ان امور سے کوئی تعلق نہیں ہوتا جو اس مواعيده الصادقة، وقد قال فَيُمْسِن کے سچے وعدوں کے خلاف ہوں جبکہ اس نے فرما دیا ہے کہ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ، وقال فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ ؟ نیز فرمایا وَمَا هُمْ مِنْهَا بِمُخْرَجِيْنَ، وقال له وَمَا هُمْ مِنْهَا بِمُخْرَجِينَ نیز فرمایا که لَا يَذُوقُوْنَ فِيهَا الْمَوْتَ إِلَّا الْمَوْتَةَ لَا يَذُوقُوْنَ فِيهَا الْمَوْتَ إِلَّا الْمَوْتَةَ الْأُولى الأولى، ولا شك أنه من مات من اور اس میں شک نہیں کہ صلحاء میں سے جس نے وفات پائی تو الصلحاء فإنه نال حظا من الجنة وحرم عليه اس نے جنت سے حصہ پالیا۔ اور اس پر دوسری موت حرام ہو گئی۔ الموتة الثانية، فكيف يجوز أن يُرَدّ عيسی پھر یہ کیسے جائز ہو سکتا ہے کہ عیسی دنیا میں واپس لوٹائے جائیں إلى الدنيا ويُخرج من حظ الجنة ونعيمها اور جنت کی لذات اور نعمتوں سے باہر نکال دیئے جائیں لے مسیح ابن مریم تو صرف ایک رسول ہیں جن سے پہلے سب رسول وفات پا چکے ہیں اور ان کی والدہ راستباز تھیں ۔ (المائدۃ:۷۶) دنیا اور آخرت میں صاحب وجاہت اور مقربوں میں سے ہوگا۔ (آل عمران: ۴۶) سے کہ میں تیری پیروی کرنے والوں کو انکار کرنے والوں پر غالب کروں گا۔ (ال عمران: ۵۶) پھر وہ روح کو جس کی موت کا اس نے فیصلہ کر دیا ہوتا ہے روک لیتا ہے۔ (الزمر:۴۳) ے اور وہ اس میں سے نکلنے والے نہیں ہیں۔ (ال عمران: ۵۶) وہ اس میں پہلی موت کے علاوہ کسی اور موت کا مزہ نہیں چکھیں گے۔ (الدخان: ۵۷)