حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 199 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 199

حمامة البشرى ۱۹۹ اردو ترجمه وما خالفه في هذا التفسير أحد من اور اس تفسیر میں آنحضرت ﷺ کے صحابہ أصحاب رسول الله صل الله علیه وسلم میں سے کسی نے ابن عباس کی مخالفت نہیں کی۔ بقية الحاشية صفحه ۱۹۵ - فقال ما بقیہ حاشیہ صفحہ ۱۹۵۔ پس فرمایا کہ مَا قَتَلُوهُ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ۔ صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ ۔ وحاصل کلام إِلَيْهِ ۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس کلام کا خلاصہ یہ ہے تعالى أن شأن عيسى منزّه عن الصلب کہ عیسیٰ کی شان صلیب دیئے جانے اور اس نتیجہ سے والنتيجة التي هي الملعونية وعدم الرفع جس سے ملعونیت اور عدم رفع نکلتا ہے منزہ ہے ۔ L بقية الحاشية صفحه ۹۴ ۱_ فلا بد من أن نفسر بقيه حاشیہ صفحہ ۱۹۴۔ لہذا ضروری ہے کہ ہم آج ہے کہ ہم آیت بل رفعه الله الرفع في آية بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ بالرفع الروحاني كما الیہ میں رفع کی تفسیر روحانی رفع سے کریں جیسا کہ آیت هو مفهوم آية ارجعي إلى رَبِّكِ رَاضِيَةً اِرْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً کا مفہوم - مَرْضِيَّةً ، فإن الرجوع إلى الله تعالى راضية کیونکہ اللہ کی طرف رَاضِيَةً مَرْضِيَّة لوٹنا اور اس کی طرف رفع یہ مرضية والرفع إليه أمر واحد لا فرق بينهما معنى دونوں ایک ہی چیز ہیں ان میں معنی کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں ۔ ہے بقية الحاشية تحت الحاشية - وقد بقیہ حاشیہ در حاشیہ۔ اور سب نے اتفاق کیا ہے کہ اس آیت میں اتفقوا على أن معنى التوفي في هذه الآية هو توفی کے معنے صرف اور صرف وفات دینے کے ہیں۔ پھر جن کے الإماتة لا غير۔ ثم الذين في قلوبهم مرض لا دلوں میں بیماری ہے وہ نہ تو اللہ کے قول کی پرواہ کرتے ہیں اور نہ ہی يبالون قول الله ولا تفسير رسوله ولا ما اس کے رسول کی تفسیر کی اور نہ ہی اس تفسیر کی جو آپ کے صحابہ نے فسره صحابته ولا أقوال التابعين والأئمة فرمائی اور نہ ہی تابعین، ائمہ اور محدثین کے اقوال کی پرواہ کرتے والمحدثين۔ فلا نعلم كيف نقبل معناهم ہیں۔ پس ہم نہیں جانتے کہ ہم ان کے وہ معنے کیسے قبول کریں جن پر الذي لا دليـل عـلـيـه مـن بيـان الله وتفسیر اللہ کے بیان اور اُس کے رسول کی تفسیر سے کوئی دلیل نہیں ، اور ہم اس رسوله، وأين نفر من الرشد الذي قد تبين ؟ ہدایت سے کہاں بھاگ کر جائیں جو بالکل ظاہر و باہر ہے؟ کیا ہم أ نترك الله ورسوله لقول قوم ضالين؟ منه اللہ اور اس کے رسول کو ایک گمراہ قوم کے قول کی خاطر چھوڑ دیں؟ منه لے اور وہ یقینا اسے قتل نہیں کر سکے اور نہ اسے صلیب دے ( کر مار ) سکے لیکن ان پر معاملہ مشتبہ کر دیا گیا۔ (النساء: ۱۵۸) ے بلکہ اللہ نے اپنی طرف اس کا رفع کر لیا۔ (النساء:۱۵۹) ے اپنے رب کی طرف لوٹ آ ، ( اس حال میں کہ تو اُسے پسند کرنے والا بھی ہے اور اس کا پسندیدہ بھی ہے ۔ (الفجر : ۲۹)