حَمامة البشریٰ — Page 14
حمامة البشرى ۱۴ اردو ترجمه وعرفت أنه يريد لأعرف أهل مكة اور میں نے معلوم کیا کہ وہ چاہتا ہے کہ مکہ والوں کو میں کچھ اپنے حالات بتاؤں ۔ لیکن من بعض حالا تي۔ فما رضی قلبی بأن أكتب إليهم الأمر المجمل میرا دل اس پر راضی نہ ہوا کہ میں ان کی طرف مجمل اور پیچیدہ بات لکھوں بلکہ میں نے المطوى، بل أردت أن أبين بيانا چاہا کہ ایسا بیان لکھوں کہ جس سے ان کے دل تطمئن به قلوبهم، وتحصل لهم مطمئن ہو جا ئیں اور ان کو اچھی معرفت حاصل معرفة ويتقوى به رأيهم ووجدانهم ہو جائے ۔ اور اس بیان سے ان کی رائے اور وفراستهم ، فغلب هذا القصد علی وجدان اور اور فراست قوی ہو جا۔ ہو جائے اور یہ ارادہ قلبي، ونفث في روعى أسرار لأهل میرے دل پر غلبہ پاتا رہا اور میرے دل میں اہل مکہ کے لئے کچھ اسرار ڈالے گئے یہاں مكة، حتى امتلأت نفسی و نسمتی تک کہ میرا نفس اور روح اُن سے پُر ہو گیا اور بها، وكتبتها في مكتوب وأرسلت میں نے ان کو ایک خط میں لکھ کر بھیج دیا۔ پھر إليهم، ثم بدا لي أن أرتبه بصورة مجھے یہ امر اچھا معلوم ہوا کہ اس کو کو بصورت رسالة وأشيعه في الناس بعد طبعه رسالہ مرتب کر کے بعد طبع لوگوں میں شائع کیا لينتفع به خلق، وليكون كسراج جائے تا کہ لوگ اس سے نفع اٹھا ئیں اور سچے منير للطالبين۔ فالآن نشرع فی طالبوں کے لئے روشن چراغ کا کام دے۔ المقصود، ونكتب أولا المكتوب اب ہم اصل مقصد کو شروع کرتے ہیں پہلے اُس خط کو لکھتے ہیں جو اہلِ مکہ سے ہمارے الذي جاء من أهل مكة، ثم نكتب پاس آیا تھا پھر ہم اُس خط کو لکھیں گے جو ہم مكتوبا أرسلنا إليهم، وما توفيقنا إلا نے ان کی طرف بھیجا اور بجز اللہ کے ہمیں کوئی بالله الذي يتول أرحم الراحمين۔ يتولى عباده، وهو توفیق دینے والا نہیں جو اپنے بندوں کا متوا متوتی اور ارحم الراحمین ہے۔