حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 175 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 175

حمامة البشرى ۱۷۵ اردو ترجمه وربما يختلج في قلبك أن رجوع شاید تیرے دل میں یہ کھٹکے کہ جنت میں داخل الموتى إلى الدنيا بعد دخولهم في الجنة ہونے کے بعد تو مردوں کا دنیا کی طرف لوٹنا ممنوع ممنوع، ولكن أي حرج في رجوع كان ہے۔ لیکن جنت میں داخل ہونے سے پہلے اُن کے قبل دخول الجنة فاعلم أن آیات لوٹنے میں کیا حرج ہے۔ پس تو جان لے کہ قرآن کی القرآن كلها تدل على أن الميت لا جملہ آیات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ مردہ قطعاً يرجع إلى الدنيا أصلا، سواء کان فی دنیا کی طرف نہیں لوٹے گا۔ خواہ وہ جنت میں ہو یا الجنة أو في جهنم أو خارجا منهما، وقد جہنم میں یا ان دونوں سے باہر اور ہم نے ابھی قرأنا عليك آنها آية فَيُمْسِكُ تمہارے سامنے آیت فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ۔ و أَنَّهُمْ عَلَيْهَا الْمَوْتَ اور أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ کے پڑھی لَا يَرْجِعُونَ ۔ ولا شك أن هذه الآيات ہے۔ اور اس میں شک نہیں کہ یہ آیات بالصراحت تدل بدلالة صريحة على أن الذاهبين اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اس دنیا سے جانے من هذه الدنيا لا يرجعون إليها أبدًا والے اس کی طرف کبھی بھی حقیقی طور پر واپس نہیں بالرجوع الحقيقي۔ وأعنى من الرجوع آئیں گے ۔ حقیقی واپسی سے میری مراد مردوں کا اپنی الحقيقي رجوع الموتى إلى الدنيا بجميع تمام خواہشات اور اُن کے لوازمات کے ساتھ اور شهواتها ولوازمها، ومع كسب الأعمال بُرے بھلے اعمال کرنے اور اپنے کمائے ہوئے من خير وشر، ومع استحقاق الأجر على اعمال پر اجر کے استحقاق کے ساتھ واپس آنا ہے۔ ما كسبوا، ومع ذلك أعنى من الرجوع مزید برآں اس حقیقی واپسی سے میری مراد مر دوں الحقيقي لحوق الموتى بالذين فارقوهم كا اُن لوگوں سے ملنا ہے جنہیں وہ چھوڑ کر چلے من الآباء والأبناء والإخوان والأزواج گئے ۔ یعنی باپ دادے، بیٹے، بھائی، بیویاں اور شوہر والعشيرة الذين هم موجودون فی الدنیا اور خاندان کے وہ تمام افراد جو دنیا میں موجود ہیں ۔ ے پس جس روح کے متعلق اُس نے موت کا فیصلہ کر لیا ہو وہ اُسے روک لیتا ہے۔ (الزمر:۴۳) کہ وہ لوگ پھر لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ (الانبیاء: ۹۶)