حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 170 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 170

حمامة البشرى ۱۷۰ اردو ترجمه فرد بذلك القول قول عمر اس طرح آپ نے اس قول کے ساتھ عمر وكان مأخذ قوله قوله تعالى إلَّا کے قول کی تردید فرمادی اور آپ کے قول مَوْتَتَنَا الأولى۔ وكانت لأبی کا ماخذ اللہ تعالیٰ کی آیت إِلَّا مَوْتَتَنَا بكر رضي الله عنه مناسبة عجيبة الأولى ہی تھی ۔ اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ بدقائق القرآن ورموزه و أسراره کو قرآنی دقائق اور اُس کے رموز و اسرار و ومعارفه، وكان له ملكة كاملة في معارف سے ایک عجیب مناسبت تھی اور آپ استنباط المسائل من القرآن کو قرآن کریم سے مسائل کے استنباط میں کامل الكريم، فلذلك هدى قلبه إلى ملکہ حاصل تھا ۔ پس اسی وجہ سے آپ کے دل الحق وفهم أن الرجوع إلى الدنيا کی حق کی طرف رہنمائی کی گئی ۔ اور آپ موتة ثانية، وهي لا يجوز على سمجھ گئے کہ دنیا کی طرف واپسی دوسری أهل الجنة بدليل قوله تعالی موت ہے اور یہ جنتیوں کے لئے جائز نہیں اور حكاية عن أهلها " إِلَّا مَوْتَتَنَا دلیل اس کی اللہ کا وہ قول ہے جو اُس نے الْأُولَى وَمَا نَحْنُ بِمُعَذِّبِينَ " جنتیوں کے منہ سے إِلَّا مَوْتَتَنَا الْأُولَى وَمَا فإن رجوع أهل الجنة إلى نَحْنُ بِمُعَذِّبِينَ ' کہلوایا۔ کیونکہ اہل جنت الدنيا ثم موتهم و ورود آلام کا دنیا کی طرف لوٹنا، پھر اُن کا مرنا اور جان کنی السكرات والأمراض عليهم نوع اور بیماریوں کی تکالیف کا ان پر وارد ہونا یہ ایک قسم من التعذيب، وقد نجى الله إياهم كا عذاب ہے۔ جبکہ اللہ نے انہیں ہر عذاب سے من كل عذاب، و آواهـم عـنـده نجات دی ہے اور اُنہیں اُن کے دار الآخرت کی بإعطاء كل حبور وسرور من طرف منتقل کرنے کے دن سے ہی ہر آسائش و سرور عطا کر کے اپنے حضور پناہ دی ہے۔ يوم انتقالهم إلى الدار الآخرة لے سوائے ہماری پہلی موت کے اور ہمیں ہرگز عذاب نہیں دیا جائے گا۔ ہرگز عذاب نہیں دیا جائے گا۔ (الصافات: ۶۰ )