حَمامة البشریٰ — Page 165
حمامة البشرى ۱۶۵ اردو ترجمه كما روى عن ابن عباس فی تفسیر جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے قول هَنِيئًا کی تفسیر میں قوله تعالى: هَنِيئًا، فعند ذلك حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ ایسے موقع يقولون أَفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِيْنَ ۔ إِلَّا پروہ (جنتی) کہیں گے کہ أَفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِينَ مَوْتَتَنَا الأولى ۔ واعلم أن قولهم إِلَّا مَوْتَتَنَا الْأُولى او اور یاد رکھو کہ اُن ۴۹ هذا يكون على طريقة الابتهاج والسرور۔ جنتیوں کا یہ قول انبساط اور سرور کے طور پر ہوگا۔ ثم اعلم أن الاستثناء ههنا مفرغ، پھر جان لو کہ یہاں یہ استثناء متصل ہے اور بعض وقيل منقطع بمعنى لكن وفی کے نزدیک یہ استثناء منقطع بمعنی لکن ہے۔ اور كل حال يثبت من هذه الآية ہر حال میں اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ أن أهل الجنة يبشرون بالدوام جنتیوں کو دوام اور خلود کی بشارت دی جائے والخلد ويبشرون بأن لهم لا موت گی۔ نیز انہیں یہ بھی بشارت دی جائے گی کہ اُن إلا موتتهم الأولى۔ وهذا دليل كے لئے پہلی موت کے علاوہ اور کوئی موت صريح على أن الله ما جعل نہیں ۔ اور یہ واضح دلیل ہے کہ اللہ نے جنتیوں لأهل الجنة موتين، بل بشرھم کے لئے دو موتیں نہیں بنائیں بلکہ اُس نے اُنہیں بالحياة الأبدية بعد الموت الذي اِس موت کے بعد جو ہر ہر شخص کے کے لئے مقدر ہے قد قدّر لكل رجل۔ وقال في آخر حیات ابدی کی بشارت دی ہے اور اس آیت کے آخر هذه الآية: إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْفَوْزُ میں اُس نے فرمایا ہے کہ إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ، فأشار إلى أن دوام الحياة الْعَظِيمُ ہے اُس نے یہ اشارہ کیا ہے کہ نعمتوں، وعدم الموت مع نعيم وسرور خوشیوں اور مسرتوں سے معمور حیات ابدی اور وحبور من التفضلات العظيمة۔ عدم موت (اس کے ) عظیم فضلوں میں سے ہے۔ لے پس کیا ہم مرنے والے نہیں تھے، سوائے ہماری پہلی موت کے ۔ (الصافات: ۶۰،۵۹) ے یقینا یہی ایمان لانے والے کی ) ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ (الصافات: ۶۱ )