حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 159 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 159

حمامة البشرى ۱۵۹ اردو ترجمه ألم يعلم أن الله تعالى جعل نبينا کیا انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے الله عروسة أول المعصومين وقد طعن نبی ﷺ کو اوّل المعصومین قرار دیا ہے۔ اور الزمخشري في معنى هذا الحدیث بخشری نے اس حدیث کے مفہوم کی نسبت طعن وتوقف في صحته، وكيف يجوز کرتے ہوئے اس کی صحت کے بارے میں توقف أن نخص ابن مريم و وأُمه فی کیا ہے۔ اور یہ کیسے جائز ہو سکتا ہے کہ ہم ابن مریم العصمة من مس الشيطان وقد قال اور اُن کی والدہ کے مس شیطان سے محفوظ رہنے الله تعالى: اِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ کی تخصیص کریں جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ عَلَيْهِمْ سُلْطَنَ ۔ وقال : سَلَمُ اِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَنَّ يَز عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوتُ فرمایا سَلامُ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوتُ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا ۔ وما معنى السلام وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا ہے اور لفظ السلام کے معنی إلا الحفظ والعصمة ، وقال : إِلَّا حفاظت اور عصمت کے ہی ہیں۔ نیز فرمایا الا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ ، فلا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ " اور یہ حدیث يصح هذا الحديث إلا أن نريد صرف اسی صورت میں صحیح ہو سکتی ہے جب ہم من ابن مریم و أُمه معنى عامًا، ابن مریم اور ان کی والدہ سے عمومیت کا مفہوم ونقول إن كل تقى ونقي کان لیں۔ اور یہ کہیں کہ ہر متقی اور پاکباز جوان في صفتهما فهو ابن مريم وأمه، دونوں کی صفات اپنے اندر رکھتا ہو وہ ابن مریم وإليه أشار الزمخشري رحمه اور اُن کی والدہ ہے۔ اور اسی کی جانب زمخشری الله ولا يستبعد هذا التأويل نے اشارہ کیا ہے۔ اور یہ تاویل دور از قیاس نہیں۔ لے یقیناً (جو) میرے بندے (ہیں) ان پر تجھے کوئی غلبہ نصیب نہ ہوگا ۔ (الحجر : ۴۳ ) سلامتی ہے اس پر جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن وہ مرے گا اور جس دن اسے دوبارہ زندہ کر کے اُٹھایا جائے گا۔ (مریم: ۱۶) سوائے ان میں سے تیرے مخلص بندوں کے ۔ (الحجر: ۴۱)