حَمامة البشریٰ — Page 153
حمامة البشرى ۱۵۳ اردو ترجمه قد يستدلون على حياته بقوله وہ اُن کے زندہ ہونے پر اللہ کے اس قول سے تعالى: وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتٰبِ إِلَّا استدلال کرتے ہیں کہ وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ والله يعلم إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ، اور اللہ جانتا ہے کہ أنهم خاطئون في هذا الاستدلال وہ ایسا استدلا وہ ایسا استدلال کرنے میں غلطی خوردہ ہیں۔ اور وإن هم إلا يظنون، ويُضلّون وہ محض گمان سے کام لے رہے ہیں۔ اور لوگوں الناس بغيــر عـلــم، ثم ينهضون کو بغیر علم کے گمراہ کرتے ہیں۔ پھر وہ تلوار کی لإيذاء أهل الحق بألسنة حداد طرح کاٹنے والی زبانوں سے اہل حق کو اذیت ولا يخافون الله ويسمون المؤمنين پہنچانے کے لئے اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔اور كافرين۔ إنما مثلهم كمثل الله سے نہیں ڈرتے۔ اور مومنوں کا نام کافر قوم اتخذوا مسجدًا ضِرارًا رکھتے ہیں ۔ اُن کی مثال اس قوم کی طرح ہے وكفرا وتفريقا بين المؤمنين جنہوں نے تکلیف پہنچانے اور کفر پھیلانے اور وأنت تعلم أنا لو فرضنا أن مومنوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی خاطر ایک اليهود كلهم يؤمنون بعيسى مسجد بنائی ۔ اور تو جانتا ہے کہ اگر ہم بالفرض یہ عليه السلام قبل موته تسلیم کرلیں کہ تمام یہودی عیسی علیہ السلام کی كما فهموا من هذه الآية وفات سے قبل اُن پر ایمان لے آئیں گے جیسا للزم المحال الصريح من کہ وہ اس آیت سے سمجھتے ہیں تو ایسے معنی کرنے هذا المعنى، وللزم أن يبقى سے واضح مشکل پیش آئے گی۔ اور یقینی بني إسرائيل كلهم إلى نزول طور پر یہ بھی لازم آئے گا کہ تمام بنی اسرائیل عیسی علیه السلام أحياء سالمين نزول عیسیٰ علیہ السلام تک زندہ اور صحیح سالم رہیں ۔ لے اور اہل کتاب میں سے کوئی (فریق ) نہیں مگر اس کی موت سے پہلے یقیناً اس (مسیح) پر ایمان لے آئے گا۔ (النساء: ۱۶۰)