حَمامة البشریٰ — Page 106
حمامة البشرى ١٠٦ اردو ترجمه بل يوجد فيه شيء يعارضه، فمن بلکہ کوئی ایسی چیز پائی جاتی ہو جو اس کے معارض ہے الواجب أن لا يُقبل مثل هذه تو پھر لازم ہے کہ اس قسم کے قصوں کو صرف تاویلی القصص إلا في زي التأويل۔ فانظر پیرایہ میں ہی قبول کیا جائے پس تو (خطا سے) اقتداء لهذا القانون العاصم الذي بچانے والے اس قانون کی جو رسول اللہ صلی اللہ بلغنا من رسول الله صلى الله علیہ وسلم سے ہم تک پہنچا ہے پیروی کرتے ہوئے عليه وسلم، هل تجد لقصة صعود دیکھ کہ کیا تو مادی جسم کے ساتھ مسیح کے ( آسمان المسيح مع جسمه العنصری پر چڑھنے اور دوفرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھے ولقصة نزوله من السماء واضعا ہوئے اُس کے آسمان سے اُترنے کے قصوں کی كفيه على جناحي الملكين أصلا بنياد يا نشان یا اس قصے کے مشابہ کوئی قصہ قرآن أو أثرا في القرآن أو قصة مما میں پاتا ہے؟ بلکہ قرآن اس دنیا میں اس قسم کے يشابه هذه القصة بل القرآن يُنزّه افعال سے اللہ کی شان کو منزہ قرار دیتا ہے اور فرماتا شأن الله عن مثل تلك الأفعال في ہے کہ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا هذه الدنيا ويقول : قُلْ سُبْحَانَ بَشَرً ا رَسُولًا لے اور وہ (قرآن) نزول کے قصے رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرً ا رَسُولًا ۔ کا اعلانیہ مخالف ہے۔ چنانچہ اُس نے اُن بشارتوں وإنــه خـالـف قـصـة النزول جهرًا کا ذکر کیا ہے جن میں اُس نے اپنے مرتب اور بحيث ذكر بشارات بشر بها المسيح مُرَبَّع كلام میں مسیح کو بشارتیں دی ہیں ۔ پس في كلامه المرتب المرضع، فبلغ یہ کلام اللہ کے قول إِنِّي مُتَوَفِّيكَ سے قول الكلام من قوله : إِنِّى مُتَوَفِّيكَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ تک ہے۔ اور اس میں نہ تو اُس إلى قوله: يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وما ذكر فيه نے مسیح کے آسمان پر چڑھنے کے قصے کا کوئی قصة صعود المسيح ولا نزوله، ذکر کیا ہے اور نہ ہی اُس کے اُترنے کا۔ لے تو یہ اعلان کر دے کہ میرا رب (ایسا کرنے) سے پاک ہے۔ میں تو صرف ایک بشر رسول ہوں ۔ (بنی اسرائیل:۹۴)