حکایاتِ شیریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 19 of 22

حکایاتِ شیریں — Page 19

۳۵ ۳۴ نیک معلوم ہوتا تھا بوجہ اس کے ظاہری ورد و وظائف کے وہ سادہ لوح آدمی اس کے ساتھ بہت بیٹھتا اور تعلق رکھتا تھا۔ کچھ مدت کے بعد اس فقیہ نے بڑی سنجیدگی سے اس آدمی سے پوچھا کہ تم نے یہ مکان اس طرح پر کیوں بنایا ہے کیوں نہیں سارا پختہ بنا لیتے اس نے جواب دیا کہ رہ نہیں غریب ہوں اس پر فقیر نے کہا روپے کی کیا بات ہے اور لہ کو اتنا کہ کر خاموش ہو گیا اس ذو معنے جواب پر اس شخص کو کچھ خیال پیدا ہوا اور اس نے پوچھا کہ کیا تم کچھ کیمیا جانتے ہو۔ اس نے کہا نے کہ کہ ہاں استاد صاحب جانتے تھے اور بہت اصرار کے بعد مان لیا کہ مجھ کو بھی آتا ہے ۔ پر میں کسی کو بتاتا نہیں چونکہ تم بہت پیچھے ہو اس لیے کچھ تم کو بتا دیتا ہوں اور یہ کہہ کر اس کو گھر کا نہ یوں اٹھا پڑے تجھے لوٹ کر لے گیا اور جب ہنڈیا کھولی تو اس میں سے روڑے نکلے چنانچہ وہ شخص جب کسی کام کیلئے گورداسپور گیا تو اسے وہاں معلوم ہوا ہوا کہ کہ وینی شخص کسی اور کو دھوکا دے گیا ہے اور وہاں آگ جل رہی ہے ۔ پس اس نے ان کو بھی سمجھا یا کہ مجھ کو بھی لوٹ کر لے گیا ہے اور وہاں بھی ہنڈیا کھولنے پر اینٹ پتھر ہی نکلے ( ملفوظات جلد دهم صفحه ۱۶۳ ۱۶۴) جبتک خدا نہ دکھائے انبیاء وغیرہ خدا تعالی کی چادر کے نیچے ہوتے ہیں۔ جبتک خانہ دکھا دے کوئی ان کو دیکھ نہیں سکتا کہتے ہیں سلطان محمود ایک راجہ کو کرنے کی ترغیب دی اور کچھ مدت تک باہر میدان میں جاکر وظیفہ اور تک ا پڑھتا رہا ۔ ایک دن زیور نے کر ہنڈیا میں رکھنے لگا مگر کسی طرح اس زیور کو تو چرا لیا اور اس کی جگہ اینٹیں اور روڑے بھر دیئے اور خود وظیفہ کے بہانے باہر چلا گیا اور جاتے وقت کہہ گیا کہ اس ہنڈیا کو بہت سے اُپلوں میں رکھ کر آگ دو مگر دیکھنا کیا نہ اتارنا بلکہ جب تک میں نہ آؤں اسے ہاتھ نہ لگانا ۔ اس نے اس کے کہنے کے مطابق اس ہنڈیا کو خوب آگ دی اور اس قدر دھواں ہوا کہ ہمسائے اکٹھے ہو گئے اور دروازہ کھلوا کر اندر گئے اور جب اس سے پوچھنے پر معلوم کیا کہ کیمیا بن رہا ہے تو انہوں نے اس شخص کو سمجھایا کہ وہ گرفتار کر کے اپنے ساتھ لے گیا وہ راجہ کچھ عرصہ اس کے ساتھ رہ کر خرکار اپنے مذہب اور اسلام کا مقابلہ کر کے مسلمان ہو گیا الگ خیمہ ہولیا ہیں رہا کرتا تھا ۔ ایک دن وہ بیٹھا ہوا رو رہا تھا کہ خیمہ کے پاس سے محمود گزرا ۔ اس نے رونے کی آواز سنی ۔ اندر آیا ۔ پوچھا کہ اگر وطن یاد آیا ہے تو میں وہیں کا راجہ بنا کر بھیج دیتا ہوں ۔ اس نے کہا کہ اب مجھے دنیا کی ہوس کوئی نہیں ۔ اس وقت مجھے یہ خیال آیا ہے کہ قیامت کے دن اگر یہ سوال ہوا کہ تو کیسا مسلمان ہے کہ جب تک محمود نے چڑھائی نہ کی اور وہ گرفتار کر کے تجھ کو نہ لایا تو مسلمان نہ ہوا۔ کیا اچھا ہوتا کہ مجھے اسوقت ابتداء میں سمجھ آجاتی کہ اسلام سچا مذہب ہے ( ملفوظات جلد پنجم ۴۰۵-۴۰۵)