حکایاتِ شیریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 13 of 22

حکایاتِ شیریں — Page 13

۲۳ ۲۲ روشن ہوگئیں اور مال و دولت بھی مل گیا۔ پھر وہی فرشتہ گنجے اور اندر سے پروا نہیں کی اب یہ خود مرتا ہے ۔ خواجہ یہ سن کر ڈرا اور بھاگتا ہوا حضرت موسی کے پاس آیا حضرت مونٹی نے کہا کہ اب تو اپنے آپ کو بیچے کو بیچ کر اگر کی آزمائش کے لیے خدا تعالیٰ کے حکم سے ایک فقیر کے نھیں میں آیا اور گنجے بچ سکتا ہے تو تجربہ کرے۔ اپنے نقصان مال کو تو تو نے دوسروں کے نقصان مال پر ڈالا ۔ اور آپ بچتا گیا مگر اب کیا چارہ ہے۔ اب تو اس جا کر سوال کیا۔ گنجے نے ترش روی سے جواب دیا اور جھڑک اور دیا اور کہا کہ چل تیرے جیسے بہت فقیر پھرتے ہیں۔ فرشتہ نے اس کے سر پر ہاتھ پھیر دیا اور پھر وہ گنجے کا گنجا ہی ہو گیا اور سب مال و دولت سے تو بچ سکتا نہیں بہتر ہے کہ تو اپنے ایمان کو درست کر۔ اگر تو ایماندار 1 جاتا رہا اور پھر ویسا ہی تنگ حال ہو گیا ۔ پھر وہی فرشتہ فقیر کی شکل فوت ہوا تو مرے گا نہیں بلکہ زندہ ہی رہے گا۔ مومن دراصل مرتا نہیں زندہ رہتا ہے ۔ عرض آخر وہ ایمان لایا اور اس طرح پر روحانی موت سے بچے گیا یا (سیرۃ مسیح موعود جلد اول الامت (۱۵) اندھے اور گنجے کی کہانی ۱۵۱ ایک گنجا گنجا اور ایک اندھا تھا ۔ خدا کا فرشتہ متشکل ہو کر گنجے کے پاس آیا اور اس سے پوچھا کہ تو کیا چاہتا ہے تو گنجے نے کہا کہ میرے میں اندھے کے پاس آیا جو اب بڑا دولتمند اور بینا ہو گیا تھا۔ اور سوال کیا ۔ اس نے کہا کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے ہی دیا ہے اور اس کا مال ہے تم لے لو ۔ اس پر پھر اللہ تعالیٰ نے اندھے کو اور بھی مال و دولت دیا " نتیجہ : پس اے عزیز بچو! تم بھی یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر کرو اور اس کی قدر کرو اور سوالی کو جھڑکی نہ دو۔ خیرات کرنا اچھی بات ہے اور سوالی کو دینا چاہئیے اس سے خدا خوش ہوتا ہے اور نعمت زیادہ کرتا ہے۔ (سیرۃ مسیح موعود جلد اول صفحه (۱۵۵) سر کے بال ہو جاویں اور مال و دولت ہو جاوے ۔ چنانچہ فرشتہ نے گنجے ایک بزرگ اور چور کی کہانی کے سر پہ ہاتھ پھیرا تو خدا کی قدرت سے اس کے سرمہ بال بھی نکل آئے ريد اور مال و دولت اور نوکر چاکر بھی مل گئے ۔ پھر اندھے کے پاس آیا اور اس سے پوچھا کہ تو کیا چاہتا ہے ۔ اندھے نے کہا کہ میری آنکھیں روشن ہو جاویں تو میں ٹکریں کھاتا نہ پھروں اور روپیہ پیسہ بھی مل جاوے تو کسی کا محتاج نہ رہوں ۔ فرشتہ نے اس کی آنکھوں پر ہاتھ پھیرا تو وہ ایک بزرگ کہیں سفر میں جا رہے تھے اور ایک جنگل میں ان کا کولوٹ گزر ہوا جہاں ایک چور رہتا تھا اور جو ہر آنے جانے والے مسافر کولا لیا کرتا تھا۔ اپنی عادت کے موافق اس بزرگ کو بھی لوٹنے لگا ۔ بزرگ