غلبہء حق — Page 58
۵۸ کو دلایت کے مقام سے بڑھ کر <mark>نبوت</mark> کا مقام بھی حاصل ہو سکتا ہے۔اگر اس جگہ <mark><mark>نبی</mark></mark> تراش سے مراد ولی تراش کی جائے تو خاتم ال<mark><mark>نبی</mark></mark>ین کی خصوصیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام ا<mark><mark>نبی</mark></mark>اء حقیقتاً شریک ہو جاتے ہیں حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ یہ قوت قدسیہ کسی اور <mark><mark>نبی</mark></mark> تو نہیں ملی۔پس بے شک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری <mark><mark>نبی</mark></mark> کے معنوں میں بھی خاتم ال<mark><mark>نبی</mark></mark>ین ہیں گو یہ معنی <mark>حقیقی</mark> معنی نہیں بلکہ <mark>حقیقی</mark> معنی <mark><mark>نبی</mark></mark> تراش کو لازم ہیں بس آپ آخری <mark><mark>نبی</mark></mark> ) کول: آپ آخری <mark><mark>نبی</mark></mark> اس وصف کے ساتھ ہیں کہ آپ <mark><mark>نبی</mark></mark> ترانش بھی ہیں جس کے یہ معنی ہوئے کہ آئندہ کوئی شخص آپ کی شریعت کی پیروی کے بغیر مقام <mark>نبوت</mark> نہیں پا سکتا۔لیکن آپ کی شریعیت چونکہ قیامت تک ہینگی ہذا آپ شارع ا<mark><mark>نبی</mark></mark>اء میں آخری فرد ہیں۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان افاضہ بیان کرتے ہوئے حضرت میسج موعود علیہ السلام نے یہ بھی تحریر فرمایا ہے کہ :- بجز اس دفعاتم ال<mark><mark>نبی</mark></mark>ن - ناقل) کے کوئی <mark><mark>نبی</mark></mark> صاحب خاتم نہیں، ایک وہی ہے جس کی شہر سے ایسی <mark>نبوت</mark> بھی مل سکتی ہے ،جس کے لیے امتی ہونا لازمی ہے " اور یہ بھی تحریر فرمایا ہے کہ :- (حقیقة الوحی مث ) اس اُمت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی کبریت سے ہزار ہا اولیاء ہوئے اور ایک وہ بھی ہوا جو امتی بھی ہے اور <mark><mark>نبی</mark></mark> بھی۔رحقیقة الوحی حاشیہ مث