غلبہء حق — Page 51
ان موافق ایک <mark><mark>نبی</mark></mark> کے مبعوث ہونے تک وہ عذاب ملتوی رکھنا اور جب وہ <mark><mark>نبی</mark></mark> مبعوث ہو گیا اور اس قوم کو ہزار ہا اشتہاروں اور رسالوں سے دعوت دی گئی۔تب وہ وقت آگیا کہ ان کو ان کے جرائم کی سزادی جادے۔اور یہ بات ہر آ غلط ہے کہ یورپ اور امریکہ کے لوگ <mark>میرے</mark> نام سے بھی بے خبر ہیں۔یہ امر کی منصف مزاج پر پوشیدہ نہیں رہیگا کہ عرصہ قریباً میں برس کا گزر گیا ہے۔جبکہ میں نے سولہ ہزار اشتہار دعوت، انگریزی میں چھپوا کر اور اس میں اپنے دعوطی اور دلائل کا ذکر کر کے یورپ اور امریکہ ہیں کا تقسیم کیا تھا اور بعد اس کے مختلف اشتہارات وقت فوقتا تقسیم ہوتے رہے اور پھر کئی برس سے رسالہ انگریزی ریویو آن ریجنز یورپ اور امریکہ میں بھیجا جاتا ہے اور یورپ کے اخباروں میں بارہا <mark>میرے</mark> دعوئی کا ذکر ہوا ہے۔۔۔۔۔پس اصل بات یہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے کہ دما کنا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولاً - خدا تعالى دنیا میں عذاب نازل نہیں کرتا ، جب تک اس سے پہلے رسول نہیں بھیجتا۔یہی سنت اللہ ہے اور ظاہر ہے یورپ اور امریکہ میں کوئی رسول پیدا نہیں ہوا۔پس ان پر جو عذاب نازل ہوا صرف <mark>میرے</mark> <mark>دعوی</mark> کے بعد ہوا نہ رتمه حقیقة الوحی صفحه ۵۲ - ۵۳)