غلبہء حق — Page 292
۲۹۲ ہیں۔کیونکہ انہوں نے ایک مسلمان کو کا فربنایا تب میں ان کو مسلمان سمجھ لونگا بشرطیکہ ان میں کوئی نفاق کا شبہ نہ پایا جاوے اور خدا کے کھلے کھلے معجزات کے مکذب نہ ہوں؟ (حقیقۃ الوحی مثلا) دیکھ لیجئے کہ اس کے باوجود کہ حضرت <mark>مسیح</mark> موعود <mark>غیر</mark> از جماعت مسلمانوں کو مسلمان <mark>نہی</mark>ں سمجھتے پھر بھی جب آپ لوگ اس کی یہ تا دیل کر لیتے ہیں، اس جگہ رسمی مسلمان ہونے سے انکار <mark>نہی</mark>ں کیا گیا تو یہی مفہوم آپ انوار خلافت کے فقرے کا کیوں <mark>نہی</mark>ں سمجھ لیتے کہ اس میں بھی <mark>غیر</mark> از جماعت مسلمانوں کے رسمی مسلمان ہونے سے انکار <mark>نہی</mark>ں کیا گیا۔اب رہ گیا آئینہ صداقت میں دائرہ اسلام سے خروج کا ذکر، سو ایسے الفاظ اسلام میں دو معنوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ایک مفہوم ان الفاظ کا یہ ہوتا ہے کہ یہ شخص <mark>غیر</mark> مسلم ہے اور دوسرا مفہوم اس کا یہ ہوتا ہے کہ یہ شخص حقیقت اسلام سے بیگانہ اور ایک شدید بد عقیدگی میں مقبلہ ہے۔دیکھئے خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:۔من مَشَى مَعْ ظَالِمٍ لِيُقَويْهِ وَهُوَ لَيْلَمُ أَنَّهُ ظالِمُ فَقَدْ خَرَجَ مِنَ الْإِسْلَامِ رمشكاة المصابيح) ترجمہ: جو شخص ظالم کے ساتھ اس کو طاقت دینے کے لیے چل پڑا اور وہ جانتا ہے کہ وہ ظالم ہے تو وہ اسلام سے خارج ہو گیا فاروقی صاحب ! جب آپ لوگ بھی اس حدیث کے یہی معنی لیتے ہیں کہ ایسا شخص حقیقت اسلام سے بیگانہ ہو جاتا ہے تو آئینہ صداقت میں مندرج دائرہ اسلام سے خارج ہونے کے الفاظ کا آپ یہی مفہوم کیوں <mark>نہی</mark>ں لیتے کہ <mark>غیر</mark> از جماعت مسلمان <mark>مسیح</mark> موعود کے انکار کی وجہ