فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 81
فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 81 دیتا ہے اور بسا اوقات اللہ تعالیٰ خود ہی ایک دعا سکھاتا ہے اور الہامی طور پر اس کا پیرا یہ بتا دیتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمت اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے راستباز بندوں کو قبول ہونے والی دعا ئیں خود الہاما سکھا دیتا ہے۔ بعض وقت ایسی دعا میں ایسا حصہ بھی ہوتا ہے جس کو دعا کرنے والا نا پسند کرتا ہے مگر وہ قبول ہو جاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس آیت کے مصداق ہے۔ عسى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ " الحکم نمبر 12 جلد 6 مؤرخہ 31 مارچ 1902ء صفحه (7) ایک رئیس کا یہ خیال سن کر کہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ کہ دعا سے مشکل حل ہوتی ہے، ان کو بہت ہی کمزور کرنے والا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ:۔ " جو دعا سے منکر ہے وہ خدا سے منکر ہے۔ صرف ایک دعا ہی ذریعہ خدا شناسی کا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس کی ذات کو طوعاً و کرھا مانا جاوے۔ اصل میں ہر جگہ دہریت ہے، آجکل کی محفلوں کا یہ حال ہے کہ دعا ، تو کل اور انشاء اللہ کہنے پر تمسخر کرتے ہیں، ان باتوں کو بے وقوفی کہا جاتا ہے۔ ورنہ اگر خدا سے ان کو ذرا بھی انس ہوتا تو اس کے نام سے کیوں چڑتے ۔ جس کو جس سے محبت ہوتی ہے وہ ہیر پھیر سے کسی نہ کسی طرح سے محبوب کا نام لے ہی لیتا ہے۔ اگر ان کے نزدیک خدا کوئی شے نہیں ہے تو اب موت کا دروازہ کھلا ہے، اسے ذرا بند کر کے تو دکھا دیں۔ تعجب ہے کہ ہمیں جس قدر اس کے وجود پر امیدیں ہیں اسی قدر وہ دوسرا گر وہ اس سے نا امید ہے۔ اصل میں خدا کے فضل کی ضرورت ہے، اگر وہ دل کے قفل نہ کھولے تو اور کون کھول سکتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو ایک کتے کو عقل دے سکتا ہے کہ اس کی باتوں کو سمجھ لیوے اور انسان کو محروم رکھ سکتا ہے۔" فرمایا:۔ الحکم نمبر 17 جلد 8 مورخہ 24 مئی 1904ء صفحه (3) (۱۰۲) بہترین ذریعہ دعا و معراج مومن " نماز بڑی ضروری چیز ہے اور مومن کا معراج ہے۔ خدا تعالیٰ سے دعا مانگنے کا بہترین ذریعہ نماز