فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 76
فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 76 یقیناً یا درکھو کہ کوئی شخص سچا مسلمان نہیں ہو سکتا اور آنحضرت صلی اللہ کا متبع نہیں بن سکتا جب تک عليه وسلم آنحضرت علیم اللہ کو خاتم النبیین یقین نہ کرلے ۔ جب تک ان محدثات سے الگ نہیں ہوتا اور اپنے قول اور فعل سے آپ کو خاتم النبیین نہیں مانتا کچھ نہیں۔ سعدی نے کیا اچھا کہا ہے۔ بزهد و ورع کوش و صدق و صفا ولیکن میفزائی بر مصطفیٰ ہمارا مدعا جس کیلئے خدا تعالیٰ نے ہمارے دل میں جوش ڈالا ہے یہی ہے کہ صرف رسول اللہ علیهم السلام کی نبوت قائم کی جائے جو ابدالآباد کیلئے خدا نے قائم کی ہے اور تمام جھوٹی نبوتوں کو پاش پاش کر دیا جائے جو ان لوگوں نے اپنی بدعتوں کے ذریعہ قائم کی ہیں۔ ان ساری گدیوں کو دیکھ لو اور عملی طور پر مشاہدہ کرو کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ کی ختم نبوت پر ہم ایمان لائے ہیں یا وہ ؟ یہ ظلم اور شرارت کی بات ہے کہ ختم نبوت سے خدا تعالیٰ کا اتنا ہی منشاء قرار دیا جائے کہ منہ سے ہی خاتم النبیین مانو اور کرتوتیں وہی کرو جو تم خود پسند کرو اور اپنی ایک الگ شریعت بنالو۔ بغدادی نماز ، معکوس نماز وغیرہ ایجاد کی ہوئی ہیں۔ کیا قرآن شریف یا نبی کریم علی یا اللہ کے عمل میں بھی اس کا کہیں پتہ لگتا ہے اور ایسا ہی یا شیخ عبدالقادر جیلانی شَيْئًا لِللہ کہنا اس کا ثبوت بھی کہیں قرآن شریف سے ملتا ہے؟ آنحضرت علیهم السلام کے وقت تو شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وجود بھی نہ تھا پھر یہ کس نے بتایا تھا۔ شرم کرو کیا شریعت اسلام کی پابندی اور التزام اسی کا نام ہے؟ اب خود ہی فیصلہ کرو کہ کیا ان باتوں کو مان کر اور ایسے عمل رکھ کر تم اس قابل ہو کہ مجھے الزام دو کہ میں نے خاتم النبین کی مہر کو توڑا ہے۔ اصل اور سچی بات یہی ہے کہ اگر تم اپنی مساجد میں بدعات کو دخل نہ دیتے اور خاتم النبین صلی اللہ ا کی بچی نبوت پر ایمان لا کر آپ کی طرز عمل اور نقش قدم کو اپنا امام بنا کر چلتے تو پھر میرے آنے ہی کی کیا ضرورت ہوتی۔ تمہاری ان بدعتوں اور نئی نبوتوں نے ہی خدا تعالیٰ کی غیرت کو تحریک دی کہ رسول اللہ لیل اللہ کی چادر میں ایک شخص کو مبعوث کرے جو ان جھوٹی نبوتوں کے بت کو توڑ کر نیست و نابود کرے۔ پس اسی کام کیلئے خدا نے مجھے مامور کر کے بھیجا ہے۔ میں نے سنا ہے کہ غوث علی پانی پتی کے ہاں شاکت مت کا ایک منتر رکھا ہوا ہے جس کا وظیفہ کیا جاتا ہے اور ان گدی نشینوں کو سجدہ کرنا یا ان کے