فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 70 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 70

فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 70 ہے۔ اگر کوئی شخص آنحضرت علی یا اللہ کے حالات سے آشنا ہو تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ آپ نے کبھی ایسی باتوں کا التزام نہیں کیا وہ تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں فنا تھے۔ انسان کو تعجب آتا ہے کہ کس مقام اور درجہ پر آپ پہنچے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات آپ علیم اللہ میرے گھر میں تھے رات کو جو میری آنکھ کھلی تو میں نے آپ کو اپنے بستر پر نہ پایا مجھے خیال گزرا کہ کسی دوسری بیوی کے گھر میں ہوں گے چنانچہ میں نے سب گھروں میں دیکھا مگر آپ کو نہ پایا پھر میں باہر نکلی تو قبرستان میں دیکھا کہ آپ سفید چادر کی طرح پر زمین پر پڑے ہوئے ہیں اور سجدہ میں گرے ہوئے کہہ رہے ہیں سَجَدَ لَكَ رُوحِي وَ جَنَا نِی اب بتاؤ کہ یہ مقام اور مرتبہ ۳۳ مرتبہ کی دانہ شماری سے پیدا ہو جاتا ہے ہرگز نہیں ۔ جب انسان میں اللہ تعالیٰ کی محبت جوش زن ہوتی ہے تو اس کا دل سمندر کی طرح موجیں مارتا ہے وہ ذکر الہی کرنے میں بے انتہا جوش اپنے اندر پاتا ہے اور پھر گن کر ذکر کرنا تو کفر سمجھتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ عارف کے دل میں جو بات ہوتی ہے اور جو تعلق اپنے محبوب و مولی سے اسے ہوتا ہے وہ کبھی روا رکھ سکتا ہی نہیں کہ تسبیح لے کر دانہ شماری کرے ۔ کسی نے کہا ہے من (دل) کا منکا (دانہ ) صاف کر انسان کو چاہئے کہ اپنے دل کو صاف کرے اور خدا تعالیٰ سے سچا تعلق پیدا کرے تب وہ کیفیت پیدا ہو گی اور وہ ان دانہ شماریوں کو بیچے سمجھے گا ۔ " الحکم نمبر 21 جلد 8 مورخہ 24 جون 1904 ء صفحہ (1) (۸۸) نماز میں تعداد رکعت کیوں رکھی ہے پوچھا گیا کہ نمازوں میں تعداد رکعت کیوں رکھی ہے؟ فرمایا:۔ " اس میں اللہ تعالیٰ نے اور اسرار رکھتے ہیں جو شخص نماز پڑھے گا وہ کسی نہ کسی حد پر تو آخر رہے گا ہی اور اسی طرح پر ذکر میں بھی ایک حد تو ہوتی ہے لیکن وہ حدوہی کیفیت اور ذوق و شوق ہوتا ہے جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے جب وہ پیدا ہو جاتی ہے تو وہ بس کر جاتا ہے۔ دوسرے یہ بات حال والی ہے قال والی نہیں۔ جو شخص اس میں پڑتا ہے وہی سمجھ سکتا ہے۔ اصل غرض ذکر الہی سے یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو فراموش نہ کرے اور اسے اپنے سامنے دیکھتا رہے اس