فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 68 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 68

فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پڑھیں؟ فرمایا:۔ 68 " پہلے تمہارا فرض ہے کہ اسے واقف کرو پھر اگر تصدیق کرے تو بہتر ورنہ اس کے پیچھے اپنی نماز ضائع نہ کرو اور اگر کوئی خاموش رہے، نہ تصدیق کرے نہ تکذیب کرے تو وہ بھی منافق ہے اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔" الحکم نمبر 16 جلد 6 مؤرخہ 30 اپریل 1902 ء صفحہ 7 (۸۵) امامت مسیح موعود علیہ السلام امامت نماز کی نسبت ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور کس لئے نماز نہیں پڑھاتے؟ فرمایا کہ:۔ " "حدیث میں آیا ہے کہ مسیح جو آنے والا ہے وہ دوسروں کے پیچھے نماز پڑھے گا۔" اخبار بدر نمبر 42,41 جلد 2 مؤرخہ 29 اکتوبر 1903ء صفحه (322) (۸۶) تسبیح پھیرنے کے متعلق فتویٰ ایک شخص نے تسبیح کے متعلق پوچھا کہ تسبیح کرنے کے متعلق حضور کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا:۔ تسبیح کرنے والے کا اصل مقصود گنتی ہوتا ہے اور وہ اس گفتی کو پورا کرنا چاہتا ہے۔ اب تم خود سمجھ سکتے ہو کہ یا تو وہ گنتی پوری کرے اور یا توجہ کرے۔ اور یہ صاف بات ہے کہ گفتی کو پورا کرنے کی فکر کرنے والا سچی توبہ کر ہی نہیں سکتا ہے۔ انبیاء علیہم السلام اور کاملین لوگ جن کو اللہ تعالیٰ کی محبت کا ذوق ہوتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے عشق میں فنا شدہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے گنتی نہیں کی اور نہ اس کی ضرورت سمجھی۔ اہل حق تو ہر وقت خدا کو یاد کرتے رہتے ہیں ان کیلئے گنتی کا سوال اور خیال ہی بیہودہ ہے۔ کیا کوئی اپنے محبوب کا نام گن کر لیا کرتا ہے؟ اگر سچی محبت اللہ تعالیٰ سے ہوا اور پوری توجہ الی اللہ ہو تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ پھر گنتی کا خیال پیدا ہی کیوں ہوگا ۔ وہ تو اسی ذکر کو اپنی روح کی غذا سمجھے گا اور جس قدر کثرت سے کرے گا زیادہ لطف اور ذوق محسوس کرے گا اور اس میں اور ترقی کرے گا۔ لیکن اگر محض گفتی مقصود ہوگی تو وہ اسے ایک بیگار سمجھ کر پورا کرنا چاہے گا۔" الحکم نمبر 19 جلد 8 مؤرخہ 10 رجون 1904ء صفحه (3)