فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 63 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 63

فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 63 آپ سے التزام ثابت نہیں ہے اگر التزام ہوتا اور پھر کوئی ترک کرتا تو یہ معصیت ہوتی ۔ تقاضاء وقت پر آپ نے خارج نماز میں بھی دعا کر لی ۔ اور ہمارا تو یہ ایمان ہے کہ آپ کا سارا ہی وقت دعاؤں میں گزرتا تھا لیکن نماز خاص خزینہ دعاؤں کا ہے جو مومن کو دیا گیا ہے اس لئے اس کا فرض ہے کہ جب تک اس کو درست نہ کرلے اور طرف توجہ نہ کرے کیونکہ جب نفل سے فرض جاتا رہے تو فرض کو مقدم کرنا چاہئیے ۔ اگر کوئی شخص ذوق اور حضور قلب کے ساتھ نماز پڑھتا ہے تو پھر خارج نماز میں بے شک دعائیں کرے ہم منع نہیں کرتے ہم تقدیم نماز کی چاہتے ہیں اور یہی ہماری غرض ہے مگر لوگ آجکل نماز کی قدر نہیں کرتے اور یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ سے بہت بعد ہو گیا ۔ مومن کیلئے نماز معراج ہے اور وہ اس سے ہی اطمینان قلب پاتا ہے۔" فرمایا:۔ الحکم نمبر 38 جلد 6 مورخہ 24 اکتوبر 1902ء صفحه 12,11) " دعا کیلئے رقت والے الفاظ تلاش کرنے چاہئیں یہ مناسب نہیں کہ انسان مسنون دعاؤں کے ایسا پیچھے پڑے کہ ان کو جنتر منتر کی طرح پڑھتا ر ہے اور حقیقت کو نہ پہنچانے ۔ اتباع سنت ضروری ہے مگر تلاش رفت بھی اتباع سنت ہے۔ اپنی زبان میں جس کو تم خوب سمجھتے ہو دعا کرو تا کہ دعا میں جوش پیدا ہو۔ الفاظ پرست مخذول ہوتا ہے حقیقت پرست بننا چاہیئے ۔ مسنون دعاؤں کو بھی برکت کیلئے پڑھنا چاہئے مگر حقیقت کو پاؤ۔ ہاں جس کو زبان عربی سے موافقت اور فہم ہو وہ عربی میں پڑھے۔" الحکم نمبر 33 جلد 5 مورخہ 10 ستمبر 1901ء صفحه (9) (۷۸) رکوع و سجود میں قرآنی دعا نہ پڑھو مولوی عبد القادر صاحب لو دھانوی نے سوال کیا کہ رکوع اور سجود میں قرآنی آیت یا دعا کا پڑھنا کیسا ہے؟ فرمایا:۔ " سجدہ اور رکوع فروتنی کا وقت ہے اور خدا کا کلام عظمت چاہتا ہے۔ ماسوائے اس کے حدیثور سے کہیں ثابت نہیں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ نے بھی رکوع یا سجود میں کوئی قرآنی دعا پڑھی ہو۔" الحکم نمبر 15 جلد 7 مورخہ 24 را پریل 1903ء صفحہ (11)