فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 58
فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 58 فرمایا:۔ (۷۳) نماز اپنی زبان میں نہ پڑھنی چاہئے " نماز اپنی زبان میں نہیں پڑھنی چاہئیے ۔ خدا تعالیٰ نے جس زبان میں قرآن شریف رکھا ہے اس کو چھوڑ نا نہیں چاہئے ۔ ہاں اپنی حاجتوں کو اپنی زبان میں خدا تعالیٰ کے سامنے بعد مسنون طریق اور اذکار کے بیان کر سکتے ہیں مگر اصل زبان کو ہرگز نہیں چھوڑ نا چاہئے ۔ عیسائیوں نے اصل زبان کو چھوڑ کر کیا پھل پایا۔ کچھ بھی باقی نہ رہا۔" " الحکم نمبر 20 جلد 6 مؤرخہ 31 مئی 1902ء صفحه (8) (۷۴) نماز وتر سوال:۔ اکیلا وتر پڑھنے کے متعلق کیا حکم ہے؟ فرمایا:۔ " ہم نے اکیلا وتر پڑھنے کا حکم کہیں نہیں دیکھا۔ ہاں دو رکعت کے بعد خواہ سلام پھیر کر تیسری رکعت پڑھ لے خواہ تینوں رکعت ایک ہی نیت سے پڑھ لے۔" فرمایا کہ:۔ الحکم نمبر 15 جلد 7 مؤرخہ 24 را پریل 1903ء صفحہ (9) اکیلا ایک وتر کہیں سے ثابت نہیں ہوتا ۔ وتر ہمیشہ تین ہی پڑھنے چاہئیں خواہ تینوں اکٹھے ہی پڑھ لیں خواہ دور کعت پڑھ کر سلام پھیر لیں اور پھر ایک رکعت الگ پڑھی جاوے۔" ( اخبار بدر نمبر 11 جلد 2 مؤرخہ 3 را پریل 1903ء صفحہ 85) ایک صاحب نے سوال کیا کہ وتر کس طرح پڑھنے چاہئیں ۔ ایک اکیلا بھی جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا کہ:۔ ا کیلا وتر تو ہم نے کہیں نہیں دیکھا۔ وتر تین ہیں۔ خواہ دورکعت پڑھ کر سلام پھیر کر تیسری رکعت پڑھ لو خواہ تینوں ایک ہی سلام سے درمیان میں التحیات بیٹھ کر پڑھ لو۔ ایک وتر ٹھیک نہیں ۔ " الحکم نمبر 13 جلد 7 مؤرخہ 10 را پریل 1903 ء صفحہ 14) حضور علیہ السلام کے اس ارشاد کی اخبار بدر میں درج ذیل الفاظ میں رپورٹ شائع ہوئی ہے۔