فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 56 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 56

فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 56 کہ فلاں منزل پر نماز جمع کریں گے اور ان کو موقعہ مل جاتا تو وہ خواہ کچھ ہی ہوتا ضرور جمع کر لیتے ۔ اور خود ا آنحضرت ہی کی طرف دیکھو کہ آپ پیشگوئیوں کے پورا ہونے کے کسی قدر مشتاق تھے۔ ہم کو کوئی بتائے کہ آپ حدیبیہ کی طرف کیوں گئے؟ کیا کوئی وقت ان کو بتایا گیا تھا اور کسی میعاد سے اطلاع دی گئی تھی ؟ پھر کیا بات تھی ؟ یہی وجہ تھی کہ آپ چاہتے تھے کہ وہ خدا تعالیٰ کی پیشگوئی پوری ہو جائے ۔ یہ ایک باریک سر اور دقیق معرفت کا نکتہ ہے جس کو ہر ایک شخص نہیں سمجھ سکتا کہ انبیاء اور اہل اللہ کیوں پیشگوئیوں کے پورا کرنے اور ہونے کیلئے ایک غیر معمولی رغبت اور تحریک اپنے دلوں میں رکھتے ہیں۔ جس قدر نبیاء علیہم السلام گزرے ہیں یا اہل اللہ ہوئے ہیں ان کو فطرہ رغبت دی جاتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے نشانوں کو پورا کرنے کیلئے ہمہ تن طیار ہوتے ہیں۔ مسیح علیہ السلام نے اپنی جگہ داؤدی تخت کو بحالی والی پیشگوئی کیلئے کس قدر سعی اور کوشش کی کہ اپنے شاگردوں کو یہاں تک حکم دیا کہ جس کے پاس تلواریں اور ہتھیار نہ ہوں وہ اپنے کپڑے بیچ کر ہتھیار خریدے۔ اب اگر اس پیشگوئی کو پورا کرنے کی وہ فطری خواہش اور آرزو نہ تھی جو انبیاء علیہم السلام میں ہوتی ہے تو کوئی ہم کو بتائے کہ ایسا کیوں کیا گیا؟ اور ایسا ہی ہمارے نبی کریم علیم اللہ میں اگر یہ طبعی جوش نہ تھا تو آپ کیوں حدیبیہ کی طرف روانہ ہوئے جب کہ کوئی میعاد اور وقت بتایا نہیں گیا تھا۔ بات یہی ہے کہ یہ گروہ خدا تعالیٰ کے نشانوں کی حرمت اور عزت کرتا ہے اور چونکہ ان نشانات کے پورا ہونے پر معرفت اور یقین میں ترقی ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کی قدرتوں کا ظہور ہوتا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ پورے ہوں ۔اس - لئے آنحضرت علی الله جب کوئی نشان پورا ہوتا تو سجدہ کیا کرتے تھے۔ جب تک دل دھوئے نہ جاویں اور ایمان حجاب اور زنگ کی تہوں سے صاف نہ کیا جاوے سچا اسلام اور سچی توحید جو مدار نجات ہے حاصل نہیں ہو سکتی ۔ اور دل کے دھونے اور ان حجب ظلمانیہ کے دور کرنے کا آلہ یہی خدا تعالیٰ کے نشانات ہیں جن سے خود خدا تعالیٰ کی ہستی اور نبوت پر ایمان پیدا ہوتا ہے اور جب تک سچا ایمان نہ ہو جو کچھ کرتا ہے وہ صرف رسوم اور ظاہر داری کے طور پر کرتا ہے۔" الحکم نمبر 42 جلد 6 مؤرخہ 24 نومبر 1902ء صفحہ 2) فرمایا:۔