فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 44
فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 44 دوزخ ہے۔ جس پر غضب الہی کی سموم چلتی اور اس کو ہلاک کر دیتی۔ جس طرح آگ سے انسان ڈرتا ہے اسی طرح گناہ سے ڈرنا چاہئے کیونکہ یہ بھی ایک قسم کی آگ ہے۔ ہمارا مذہب یہی ہے کہ نماز میں رو رو کر دعائیں مانگوتا اللہ تعالیٰ تم پر اپنے فضل کی نسیم چلائے۔ دیکھو شیعہ لوگ کیسے راہ راست سے بھٹکے ہوئے ہیں۔ حسین حسین کرتے مگر احکام الہی کی بے حرمتی کرتے ہیں حالانکہ حسین کو بھی بلکہ تمام رسولوں کو استغفار کی ایسی سخت ضرورت تھی جیسے ہم کو۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ خاتم النبیین کا فعل اس پر شاہد ہے ۔ کون ہے جو آپ سے بڑھ کر نمونہ بن سکتا ہے۔" الحکم نمبر 22 جلد 7 مؤرخہ 17 جون 1903ء صفحه (8) (۵۸) دلائل الخیرات اور دیگر وظائف جناب قاضی آل احمد صاحب رئیس امروہہ نے دریافت کیا کہ دلائل الخیرات جو ایک کتاب الله وظیفوں کی ہے۔ اگر اسے پڑھا جائے تو کچھ حرج تو نہیں کیونکہ اس میں آنحضرت علم پر درود شریف ہی ہے اور اس میں آنحضرت ہی کی جابجا تعریف ہے۔ فرمایا کہ:۔ " انسان کو چاہئے کہ قرآن شریف کثرت سے پڑھے۔ جب اس میں دعا کا مقام آوے تو دعا کرے اور خود بھی خدا سے وہی چاہے جو اس دعا میں چاہا گیا ہے اور جہاں عذاب کا مقام آوے تو اس سے پناہ مانگے اور ان بداعمالیوں سے بچے جس کے باعث وہ قوم تباہ ہوئی۔ بلا مد روحی کے ایک بالائی منصوبہ جو کتاب اللہ کے ساتھ ملاتا ہے وہ اس شخص کی ایک رائے ہے جو کہ کبھی باطل بھی ہوتی ہے اور ایسی رائے جس کی مخالفت احادیث میں موجود ہو وہ محدثات میں داخل ہوگی ۔ رسم اور بدعات سے پر ہیز بہتر ہے۔ اس سے رفتہ رفتہ شریعت میں تصرف شروع ہو جاتا ہے۔ بہتر طریق یہ ہے کہ ایسے وظائف میں جو وقت اس نے صرف کرنا ہے وہی قرآن شریف کے تدبر میں لگاوے۔ دل کی اگر سختی ہو تو اس کے نرم کرنے کیلئے یہی طریق ہے کہ قرآن شریف کو ہی بار بار پڑھے۔ جہاں جہاں دعا ہوتی ہے وہاں مومن کا بھی دل چاہتا ہے کہ یہی رحمت الہی میرے شامل حال ہو۔ قرآن شریف کی مثال