فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 24 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 24

فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 24 اقرار سے خدا تعالیٰ کی تصدیق ہوتی ہے اور اس کی ہستی پر قوی ایمان پیدا ہوتا ہے۔ اور پھر میری تکذیب میری تکذیب نہیں یہ رسول اللہ علیہ السلام کی تکذیب ہے۔ اب کوئی اس سے پہلے کہ میری تکذیب اور انکار کیلئے جرات کرے ذرا اپنے دل میں سوچے اور اس سے فتوئی طلب کرے کہ وہ کس کی تکذیب کرتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ کی کیوں تکذیب ہوتی ہے؟ اس طرح پر کہ آپ نے جو وعدہ کیا تھا کہ ہر صدی کے سر پر مجدد آئے گا وہ معاذ اللہ جھوٹا نکلا ۔ اور پھر آپ نے جو اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ فرمایا تھا وہ بھی معاذ اللہ غلط ہوا ہے اور آپ نے جو صلیبی فتنہ کے وقت ایک مسیح و مہدی کے آنے کی بشارت دی إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِينَهَا (سنن ابی داؤد کتاب الملاحم باب ما يذكر في قرن المائة ) ترجمہ : یقینا اللہ تعالی اس امت کیلئے ہر صدی کے سر پر ایسے لوگ مبعوث کرتا رہے گا جو اس امت کیلئے اس کے دین کی تجدید کیا کریں گے۔ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ اللهِ كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ - صحیح بخاری کتاب احاديث الانبياء باب نزول عیسی ابن مریم) ترجمہ: رسول الله علیل یا اللہ نے فرمایا اس وقت تمہاری کیسی خوش قسمتی ہو گی جب ابن مریم تم میں نازل ہوں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہی ہوگا۔ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ اللهِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنزِلَ فِيُكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَدْلًا فَيَكْسِرَ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ وَ يَفِيضَ الْمَالِ حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ - (صحیح بخاری کتاب احادیث الانبياء باب نزول عیسی ابن مریم) ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے قریب ہے کہ تم میں ابن مریم حاکم و عادل کے طور پر نازل ہوگا۔ پس وہ صلیب کو توڑ دے گا اور خنزیر کو قتل کرے گا اور جزیہ کو موقوف کرے گا اور مال لوٹائے گا لیکن کوئی اسے قبول نہیں کرے گا۔ لفظ نزول کے معنوں کی حقیقت جاننے کیلئے قرآن کریم کی درج ذیل آیات ملاحظہ کریں:۔ ا قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا (سورۃ الاعراف : 27 ہم نے تمہارے لئے لباس پیدا کیا ۔ ۲ ۔ وَاَنْزَلْنَا الْحَدِيدَ (سورة الحديد : (26) اور ہم نے لوہا ا تا را ۳ - قَدْ اَنْزَلَ اللهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرًا رَّسُولًا ( سورة الطلاق 12,11) اللہ نے تمہاری طرف ایک رسول کے طور پر عظیم ذکر نازل کیا ہے ۔ ۴۔ وَ أَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْأَنْعَامِ ثَمَانِيَةَ اَزْوَاجِ (سورة الزمر : 7) اور اس نے تمہارے لئے چارپایوں میں سے آٹھ جوڑے بنائے ہیں۔ مذکورہ بالا آیات میں لفظ نزول وانزال کے معنی صرف آسمان سے اتر نے وا تارنے کے نہیں ہیں بلکہ ظاہر کرنے ، پیدا ہونے اور پیدا کرنے کے بھی ہیں۔ ( حاشیہ از مرتب )