فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 21
فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 21 پڑ جاتی ہے اور ایک سخت اندھیرا پڑ جاتا ہے۔ اس روحانی حالت کے مقابل پر نماز عشا مقرر ہے۔ (۵) پھر جب کہ تم ایک مدت تک اس مصیبت کی تاریکی میں بسر کرتے ہو تو پھر آخر خدا کا رحم تم پر جوش مارتا ہے اور تمہیں اس تاریکی سے نجات دیتا ہے۔ مثلاً جیسے تاریکی کے بعد پھر آخر کار صبح نکلتی نا بعد آخرکار ہے اور پھر وہی روشنی دن کی اپنی چمک کے ساتھ ظاہر ہو جاتی ہے۔ سواس روحانی حالت کے مقابل پر نماز فجر مقرر ہے۔ اور خدا نے تمہارے فطرتی تغیرات میں پانچ حالتیں دیکھ کر پانچ نمازیں تمہارے لئے مقرر کیں ۔ اس سے تم سمجھ سکتے ہو کہ یہ نمازیں خاص تمہارے نفس کے فائدہ کیلئے ہیں۔ پس اگر تم چاہتے ہو کہ ان بلاؤں سے بچے رہو تو پنجگانہ نمازوں کو ترک نہ کرو کہ وہ تمہارے اندرونی اور روحانی تغیرات کا ظل ہیں ۔ نماز میں آنے والی بلاؤں کا علاج ہے۔ تم نہیں جانتے کہ نیا دن چڑھنے والا کس قسم کے قضا و قدر کو تمہارے لئے لائے گا۔ پس قبل اس کے جو دن چڑھے تم اپنے مولی کی جناب میں تضرع کرو کہ تمہارے لئے خیر و برکت کا دن چڑھے۔" فرمایا:۔ (کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 70,69 مطبوعہ نومبر 1984 ء ) (۲۱) عمد انماز کا تارک کافر ہے " تفسیر حسینی میں زیر تفسیر آیت وَأَقِيمُوا الصَّلوةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ (الروم : 32) لکھا ہے کہ کتاب تیسیر میں شیخ محمد ابن اسلم طوسی سے نقل کیا ہے کہ ایک حدیث مجھے پہنچی ہے کہ آنحضرت علی یا اللہ فرماتے ہیں کہ " جو کچھ مجھ سے سے روایت کرو پہلے کتاب اللہ پر عرض کر لو۔ اگر وہ حدیث کتاب اللہ کے موافق ہو تو وہ حدیث میری طرف سے ہو گی ورنہ نہیں ۔ "سو میں نے اس حدیث کو کہ مَنْ تَرَكَ الصَّلوةَ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ كَفَرَ قرآن سے مطابق کرنا چاہا اور تیس سال اس بارہ میں ل عن جابر ان النبي ۔ قال بَيْنَ الْكُفْرِ وَ الْإِيْمَانِ تَرْكُ الصَّلاةِ۔ (سنن ترمذی کتاب الایمان باب ترک الصلاة) ترجمہ: حضرت جابر روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم علیم یا اللہ نے فرمایا کہ کفر اور ایمان کے درمیان فرق کرنے والی چیز نماز کا ترک کرنا ہے ۔ ( حاشیہ از مرتب )