فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 278 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 278

فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 278 اول درجہ پر شراب ہے۔ دنیا میں ہزاروں شہادتیں اس کی مضرت اور خباثت پر موجود ہیں ان سب کا لکھنا موجب تطویل ہے۔" فرمایا:۔ ریویو آف ریلیجینز جلد اول نمبر 3 مارچ 1902 صفحہ 111,110) " دنیا میں نفسانی خواہشوں کو پورا کرنے کیلئے بڑے بڑے دو گناہ ہیں ۔ ایک شراب نوشی اور ایک بدکاری۔ اب کہو کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ان دو گناہوں میں یورپ کے اکثر مردوں اور عورتوں نے پورا حصہ لیا ہے۔ بلکہ میں اس بات میں مبالغہ نہیں دیکھتا کہ شراب نوشی میں ایشیا کے تمام ملکوں کی نسبت یورپ بڑھا ہوا ہے اور یورپ کے اکثر شہروں میں شراب فروشی کی اس قدر دکانیں ملیں گی کہ ہمارے قصبوں کی ہر قسم کی دکانیں ملا کر بھی ان سے کمتر ہوں گی اور تجربہ شہادت دے رہا ہے کہ تمام گناہوں کی جڑ شراب ہے کیونکہ وہ چند منٹ میں ہی بدمست بنا کر خون کرنے تک دلیر کر دیتی ہے اور دوسری قسم کا فسق و فجور اس کے ضروری لوازم ہیں۔ میں سچ سچ کہتا ہوں اور اس پر زور دیتا ہوں کہ شراب اور تقویٰ ہرگز جمع نہیں ہو سکتے ۔ اور جو شخص اس کے بد نتیجوں سے آگاہ نہیں وہ عقلمند ہی نہیں اور اس میں ایک اور بڑی مصیبت ہے کہ اس کی عادت کو ترک کرنا ہر ایک کا کام نہیں۔" ریویو آف ریلیجنز جلد اول نمبر 1 جنوری 1902 ء صفحہ (23) (۳۷۷) معراج فرمایا:۔ " احادیث میں مسیح موعود کیلئے نزول من السماء نہیں لکھا نزول کا لفظ ہے اور یہ اخلالی معنی رکھتا ہے نہ کہ حقیقی ۔ نزیل لغت میں مسافر کو کہتے ہیں کیا وہ آسمان سے اُترتا ہے۔ بہر حال قرآن ہر میدان میں فتحیاب ہے۔ آپ کو خاتم الانبیاء ھہرایا اور آخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ کہہ کر مسیح موعود کو اپنا بروز بتا دیا ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ آنحضرت علی یا اللہ معراج کی رات اسی جسم کے ساتھ آسمان پر گئے ہیں مگر وہ نہیں دیکھتے کہ قرآن شریف اس کورڈ کرتا ہے اور حضرت عائشہ بھی رؤیا کہتی ہیں ۔ حقیقت میں معراج ایک کشف تھا جو بڑا عظیم الشان اور صاف کشف تھا اور اتم اور اکمل تھا۔