فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 15
فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 15 فَأَرْسَلَنِيَ اللَّهُ لَا سْتَخْلِصَ الصِّيَاصِي وَاسْتَدْنِيَ الْقَاصِي وَانْذِرَ الْعَاصِي وَيَرْتَفِعَ الْإِخْتِلافُ وَيَكُوْنُ الْقُرْآنُ مَالِكَ النَّوَاصِي وَقِبْلَةَ الدِّيْنِ۔ امت کے کئی فرقے بن گئے اور ملت میں اختلاف پیدا ہو گیا پس بعض حنبلی اور شافعی اور مالکی اور ا حنفی اور بعض اہل تشیع بن گئے ہیں اور اس میں شک نہیں کہ ابتدا میں تعلیم اسلام ایک ہی تھی لیکن بعد ازاں کئی مختلف گروہ بن گئے اور ہر گروہ اپنے عندیہ پر مسرور ہے ہر فرقہ نے اپنے مسلک کا ایک قلعہ بنا رکھا ہے اور اس سے نکلنا نہیں چاہتے اگر چہ اس سے بہتر صورت ان کو مل جائے اور اپنے بھائیوں کی جہالت اور تاریکی کی وجہ سے قلعہ بند ہو گئے ہیں۔ پس اللہ تعالی نے مجھے بھیجا ہے کہ اہل قلعہ کو خلاصی دوں اور دور کو نزدیک کروں اور نافرمانوں کو عذاب الہی کی خبر سناؤں اور اختلاف رفع ہو جائے اور قرآن کریم پیشانیوں کا مالک اور دین اسلام کا قبلہ ہو جائے۔" ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 560,559 مطبوعہ نومبر 1984ء) 71 (۱۱) حضرت امام ابو حنیفہ کے متعلق حضرت مسیح موعود کی رائے فرمایا:۔ " امام بزرگ ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ جو علم دین کے ایک دریا تھے فانی فی سبیل الله ۔۔ وہ ایک بحر اعظم تھا اور دوسرے سب اس کی شاخیں ہیں اس کا نام اہل الرائے رکھنا ایک بھاری خیانت ہے! امام بزرگ حضرت ابو حنیفہ کو علاوہ کمالات علم آثار نبویہ کے استخراج مسائل قرآن میں ید طولی تھا۔ خدا تعالیٰ حضرت مجدد الف ثانی پر رحمت کرے انہوں نے اپنے مکتوب صفحہ ۳۰۷ میں فرمایا ہے کہ امام اعظم صاحب کی آنے والے مسیح کے ساتھ استخراج مسائل قرآن میں ایک روحانی مناسبت ہے۔" الحق مباحثہ لدھیانہ، روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 88 و 99 مطبوعہ نومبر 1984ء) (۱۲) ارکان وضو فرمایا:۔