فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 249 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 249

فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 249 (۳۱۹) تقدیر معلق اور مبرم صدقات و خیرات سے بلا کے ٹلنے کا ذکر ہوا۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ:۔ "ہاں یہ بات ٹھیک ہے اس پر لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ تقدیر کے دو حصے کیوں ہیں ۔ تو جواب یہ ہے کہ تجربہ اس بات پر شاہد ہے کہ بعض وقت سخت خطرناک صورتیں پیش آتی ہیں اور انسان بالکل مایوس ہو جاتا ہے لیکن دعا و صدقات و خیرات سے آخر کار وہ صورت ٹل جاتی ہے۔ پس آخر یہ مانا پڑتا ہے کہ اگر معلق تقدیر کوئی شے نہیں ہے اور جو کچھ ہے مبرم ہی ہے تو پھر دفع بلا کیوں ہو جاتا ہے اور دعا و صدقہ و خیرات وغیرہ کوئی شے نہیں ہے۔ بعض ارادے الہی صرف اس لئے ہوتے ہیں کہ انسان کو ایک حد تک خوف دلایا جاوے اور پھر صدقہ و خیرات جب وہ کرے تو وہ خوف دور کر دیا جاوے۔ دعا کا اثر مثل نر و مادہ کے ہوتا ہے کہ جب وہ شرط پوری ہو اور وقت مناسب مل جاوے اور کوئی نقص نہ ہو تو ہر ایک امرٹل جاتا ہے اور جب تقدیر مبرم ہو تو پھر ایسے اسباب دعا کی قبولیت کے بہم نہیں پہنچتے۔ طبیعت تو دعا کو چاہتی ہے مگر توجہ کامل میسر نہیں آتی اور دل میں گداز پیدا نہیں ہوتا۔ نماز سجدہ وغیرہ جو کچھ کرتا ہے اس میں بدمزگی پاتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انجام بخیر نہیں اور تقدیر مبرم ہے۔" اس مقام پر ایک نے عرض کی کہ جب نواب محمد علی خانصاحب کا صاحبزادہ سخت بیمار ہوا تھا تو ناب کو اس قسم کا الہام ہوا کہ تقدیر مبرم ہے اور موت مقدر ہے لیکن پھر حضور کی شفاعت سے وہ تقدیر مبرم مل گئی۔ آپ نے فرمایا کہ:۔ " سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ بھی لکھتے ہیں کہ بعض وقت میری دعا سے تقدیر مبرم مل گئی ہے۔ اس پر شارح شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے اعتراض کیا ہے کہ تقدیر مبرم تو ٹل نہیں سکتی پھر اس کے کیا معنی ہوئے ۔ آخر خود ہی جواب دیا ہے کہ تقدیر مبرم کی دو اقسام ہیں ایک مبرم حقیقی اور ایک مبرم غیر تھی ۔ جو مبرم حقیقی ہے وہ تو کسی صورت سے ٹل نہیں سکتی ہے جیسے کہ انسان پر موت تو آنی ہے اب اگر کوئی چاہے کہ اس پر موت نہ آوے اور یہ قیامت تک زندہ رہے تو یہ نہیں مل سکتی ۔ دوسری غیر حقیقی وہ حقیقی ہے جس میں مشکلات اور مصائب انتہائی درجہ تک پہنچ چکے ہوں اور قریب قریب نہ ٹلنے کے نظر آویں اس کا نام مجازی طور پر مبرم رکھا گیا ور نہ حقیقی مبرم تو ایسی ہے کہ اگر کل انبیاء بھی مل کر دعا کریں کہ وہ مل