فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 241 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 241

فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 241 پا کر مثل پتھر کے سخت ہو گئی۔ جیسے پتھر نہیں ٹوٹتا وہ بھی نہیں ٹوٹتی تھی ۔ خدا تعالیٰ نے اسے شِفَاءٌ لِلنَّاسِ کہا ہے واقعی عجیب اور مفید شے ہے تو کہا گیا ہے۔ یہی تعریف قرآن شریف کی فرمائی ہے ریاضت کش اور مجاہدہ کرنے والے لوگ اکثر اسے استعمال کرتے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ ہڈیوں وغیرہ کو محفوظ رکھتا ہے۔ اس میں ال کو جوناس کے اوپر لگایا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو اس کے اپنے یعنی خدا تعالیٰ کے ناس (بندے ) ہیں اور اس کے قرب کیلئے مجاہدے اور ریاضتیں کرتے ہیں ان کیلئے شفا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ تو ہمیشہ خواص کو پسند کرتا ہے عوام سے اسے کیا کام ۔" الحکم نمبر 6 جلد 8 مورخہ 17 فروری 1904ء صفحہ 3) (۳۰۹) آبکاری کی تحصیلداری جائز ہے یا ناجائز ایک دوست جو محکمہ آبکاری میں نائب تحصیلدار ہیں ان کا خط حضرت کی خدمت میں آیا اور انہوں نے دریافت کیا کہ کیا اس قسم کی نوکری ہمارے واسطے جائز ہے۔ حضرت نے فرمایا کہ:۔ " اس وقت ہندوستان میں ایسے تمام امور حالت اضطرار میں داخل ہیں ۔ تحصیلدار یا نائب تحصیلدار نہ شراب بناتا ہے۔ نہ بیچتا ہے۔ نہ پیتا ہے۔ صرف اس کی انتظامی نگرانی ہے اور بلحاظ سرکاری ملازمت کے اس کا فرض ہے۔ ملک کی سلطنت اور حالات موجودہ کے لحاظ سے اضطراراً یہ امر جائز ہے۔ ہاں خدا تعالیٰ سے دعا کرتے رہنا چاہئے کہ وہ انسان کے واسطے اس سے بھی بہتر سامان پیدا کرے۔ گورنمنٹ کے ماتحت ایسی ملازمتیں بھی ہو سکتی ہیں جن کا ایسی باتوں سے تعلق نہ ہو اور خدا تعالیٰ سے استغفار کرتے رہنا چاہئے ۔" " البدر نمبر 39 جلد 6 مؤرخہ 26 ستمبر 1907 ء صفحه (6) (۳۱۰) نشان کے پورا ہونے پر دعوت خان صاحب عبد الحمید نے کپورتھلہ سے حضرت کی خدمت میں ڈوئی کے شاندار نشان کے پورا ہونے کی خوشی پر دوستوں کو دعوت دینے کی اجازت حاصل کرنے کے واسطے خط لکھا۔ حضرت اف اقدس نے اجازت دی اور فرمایا کہ:۔