فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 231 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 231

فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 231 (۲۹۷) شراب حضرت اقدس نے فرمایا کہ:۔ " یہ بات غلط ہے کہ سچا سکھ یا راحت کفار کو حاصل ہے۔ ان لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ یہ لوگ شراب جیسی چیزوں کے کیسے غلام ہیں اور ان کے حوصلے کیسے پست ہیں اگر اطمینان اور سکینت ہو تو پھر خود کشیاں کیوں کرتے ہیں۔ ایک مومن کبھی خود کشی نہیں کر سکتا۔ جیسے شراب اور دوسرے نشہ بظاہر غم غلط کرنے والے مشہور ہیں اسی طرح سب سے بہتر غم غلط کرنے والا اور راحت بخشنے والا سچا ایمان ہے۔ یہ مومن ہی کیلئے ہے وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ ۔ " فرمایا: الحکم نمبر 29 جلد 6 مؤرخہ 17 را گست 1902ء صفحه (6) شراب کا ذکر شروع ہو گیا کسی نے کہا کہ اب تو حضور شراب کے بسکٹ بھی ایجاد ہوئے ہیں۔ "شراب تو انسانی شرم حیا ۔ عفت - عصمت کا جانی دشمن ہے۔ انسانی شرافت کو ایسا کھو دیتی ہے کہ جیسے کتے بلے گدھے ہوتے ہیں۔ اس کو پی کر بالکل انہی کے مشابہ ہو جاتا ہے۔ اب اگر بسکٹ کی بلا دنیا میں پھیلی تو ہزاروں ناکردہ گناہ بھی ان میں شامل ہو جایا کریں گے۔ پہلے تو بعض کو شرم و حیا ہی روک دیتی تھی اب بسکٹ لئے اور جیب میں ڈال لئے ۔ بات یہ ہے کہ دجال نے اپنی کوششوں میں تو کوئی کمی نہیں رکھی کہ دنیا کو فسق و فجور سے بھر دے مگر آگے خدا کے ہاتھ میں ہے جو چاہے کرے۔ اسلام کی کیسی عظمت معلوم ہوتی ہے ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے اسلام پر کوئی اعتراض کیا اس سے شراب کی بدبو آئی۔ اس کو حد مارنے کا حکم دیا گیا کہ شراب پی کر اسلام پر اعتراض کیا ۔ مگر اب تو کچھ حد پی پر کیا۔ مگراب حد و حساب نہیں شراب پیتے ہیں زنا کرتے ہیں غرض کوئی بدی نہیں جو نہ کرتے ہوں مگر بایں ہمہ پھر اسلام پر اعتراض کرنے کو طیار ہیں ۔ " الحکم نمبر 8 جلد 7 مورخہ 28 فروری 1903ء صفحہ 15)